عراق اور ترکی داعش کے خلاف تعاون پر متفق

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
1 منٹ read

عراق کے وزیراعظم حیدرالعبادی نے کہا ہے کہ ان کے ملک اور ترکی نے دولت اسلامیہ عراق وشام (داعش) سے درپیش خطرے کے پیش نظر سکیورٹی اور انٹیلی جنس کے شعبے میں قریبی تعاون سے اتفاق کیا ہے۔

حیدرالعبادی نے یہ بات بغداد میں عراق کے دورے پر آئے ہوئے ترک وزیراعظم احمد داؤداوغلو سے ملاقات کے بعد نیوزکانفرنس میں کہی ہے۔انھوں نے صحافیوں کو بتایا کہ عراق کا ترکی کے ساتھ عراقی کردستان سے تیل کی غیر قانونی طور پر ترک علاقے میں برآمد کی روک تھام کے لیے بھی ایک سمجھوتا طے پا گیا ہے لیکن انھوں نے اس کے خدوخال کی وضاحت نہیں کی ہے۔

واضح رہے کہ عراق کے خودمختار شمالی علاقے کردستان سے تیل کو غیر قانونی طور پر ترکی کے علاقے میں لاکر فروخت کیا جارہا ہے۔عراقی حکومت قبل ازیں بھی اس غیر قانونی کاروبار پر ترک حکومت سے احتجاج کر چکی ہے۔

عراق کے ترکی کی سرحد کے ساتھ واقع علاقے کے ایک تہائی حصے پر اس وقت داعش نے قبضہ کررکھا ہے اور اس سے متصل پڑوسی ملک شام کے علاقے پر بھی اس کا قبضہ ہے۔داعش نے اس علاقے میں خلافت کے نام سے اپنی عمل داری قائم کررکھی ہے اور عراقی فوج امریکا اور اس کے اتحادیوں کی فضائی مدد کے باوجود داعش کے زیر قبضہ علاقوں کو واپس نہیں لے سکی ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں