.

اخوان المسلمون اردن کے نائب سربراہ ذکی بنی رشید گرفتار

اپنے کالم میں اماراتی حکمرانوں پر تنقید کا ارتکاب کیا تھا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

اردن میں اخوان المسلمون کے نائب سربراہ ذکی بنی رشید کو گرفتار کر لیا گیا ہے۔ ذکی بنی رشید پر الزام ہے کہ انہوں نے متحدہ عرب امارات کی طرف سے عرب دنیا کی قدیم ترین سیاسی جماعت اخوان المسلمون کو دہشت گرد قرار دیے جانے کے فیصلے کو تنقید کا نشانہ بنایا تھا۔

اخوان المسلمون اردن کے رہنما کی گرفتاری کو دارالحکومت عمان میں پارٹی ہیڈکوارٹرز میں پارٹی اجلاس کے بعد عمل میں لائی گئی ہے۔

بتایا گیا ہے کہ اردن کے پراسیکیوٹر جنرل نے گرفتاری کا اس لیے حکم دیا ہے کہ "اردن کے اخوانی نائب سربراہ ایک دوست ملک کے ساتھ تعلقات کو خراب کرنے کی کوشش کے مرتکب ہوئے ہیں۔"

واضح رہے ذکی بنی رشید نے اپنے ایک کالم میں متحدہ عرب امارات کی طرف سے اخوان المسلمون کو دہشت گرد قرار دیے جانے کو موضوع بنایا تھا اور اپنے کالم میں لکھا تھا "امارات کے حکمران دہشت گردی کے خود سرپرست ہیں اور ان کی حکمرانی جائز نہیں ہے۔"

کالم میں مزید لکھا تھا کہ "امارات کے حکمران امریکی تھانیدار کا کردار ادا کر رہے ہیں اور اس سارے عمل کے پیچھے صیہونی منصوبہ کارفرما ہے تاکہ عرب اور مسلم اقوام کو تباہی سے دوچار کیا جا سکے۔"

امارات کی حکومت اخوان المسلمون کی شکل میں اس سیاسی اسلام کو آگے بڑھتا دیکھتی ہے جو کہیں بھی ایک خاندان کی حکمرانی کو تسلیم نہیں کرتا ہے۔

حالیہ مہینوں میں اردن میں اخوان المسلمون کے متعدد ارکان کی گرفتاریاں کی گئی ہیں، جبکہ مصر کے علاوہ سعودی عرب نے بھی اسے دہشت گرد جماعت قرار دے دیا ہے۔

مصر، سعودی عرب اور امارات نے رواں ماہ کے دوران سیاسی اسلام کی حامی جماعتوں اور دہشت گردوں کے خلاف ایک مشترکہ فوج کی تشکیل پر بھی مشاورت کی ہے۔

ادھر اخوان المسلمون اردن میں سب سے بڑی اپوزیشن جماعت ہے اور شہری علاقوں میں اس کے زیادہ تر حامی شہری علاقوں میں ہیں۔ اخوان المسلمون نے اپنے رہنما کی گرفتاری کی مذمت کرتے ہوئے فوری رہائی کا مطالبہ کیا ہے۔