.

اسرائیلی مئیر کی جانب سے عرب مزدوروں پر پابندی پر ہنگامہ

عسقلان کے مئیر کا فیصلہ پر قائم رہنے کا اعلان

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ایک اسرائیلی مئیر کی جانب سے عرب مزدوروں کو مقامی سکولوں میں تعمیرانی منصوبوں میں ملازمت سے روکے جانے پر پورے اسرائیل میں ایک نیا ہنگامہ برپا ہوگیا ہے۔ مئیر کے مطابق اس پابندی کی وجہ فلسطینی حملہ آوروں کی جانب سے اسرائیل کے دوسرے حصوں میں اسرائیلی شہریوں اور املاک پر حملوں کی تیزی ہے۔

اسرائیلی رہنمائوں کے مطابق یہ تجویز تعصب پر مبنی ہے مگر اس سے ملک میں موجود کشیدگی اور یہود و مسلم آبادی کے درمیان موجود گہری تقسیم نظر آتی ہے۔ ایک ٹی وی سروے کے مطابق عوام کی اکثریت نے اس اقدام کی حمایت کی ہے۔

اسرائیل میں فلسطینی شہریوں نے یہودیوں کے خلاف حملوں کا سلسلہ تیز کردیا ہے اور صرف پچھلے ماہ کے دوران ہی 11 افراد کو قتل کردیا گیا تھا جن میں سے پانچ افراد بیت المقدس میں ایک یہودی عبادت خانے کے باہر فائرنگ کے نتیجے میں ہلاک ہوگئے تھے۔ ان حملوں میں سے اکثر حملے بیت المقدس میں ہوئے ہیں جبکہ اس کے علاوہ تل ابیب اور مغربی کنارے میں بھی یہودیوں پر حملوں کے واقعات رونما ہوئے ہیں۔

اس ہنگامی صورتحال کے جواب کے طور پر عسقلان کے مئیر ایتمار شیمونی نے اعلان کیا کہ بچوں کے سکولوں میں بم شیلٹرز کی تعمیر نو پر کام کرنے والے عرب مزدوروں کو فوری طور پر کام سے روک دیا گیا ہے۔ انہوں نے مزید حکم جاری کیا کہ جن مقامات پر عرب مزدور کام کررہے ہیں وہاں کی سیکیورٹی سخت کردی جائے۔

شیمونی کا کہنا تھا "جو کوئی بھی یہ سمجھتا ہے کہ یہ غیرقانونی اقدام ہے وہ مجھے عدالت میں لے کر جاسکتا ہے۔ اس موقع پر میں کسی بچے کے جنازے میں شرکت کی بجائے عدالت جانا پسند کروں گا۔"

عسقلان میں کام کرنے والے مزدور مغربی کنارے اور مشرقی بیت المقدس میں حملہ کرنے والے فلسطینیوں کے مقابلے میں اسرائیل کے عرب شہری ہیں اور نظر آتا ہے کہ یہ حکم زیادہ دیر تک عمل میں نہیں رہے گا۔ وزیر انصاف زیپی لیونی نے اس اقدام کو غیر قانونی قرار دیا ہے اور اٹارنی جنرل کو حکم دیا ہے کہ وہ مناسب اقدامات اٹھائے۔

اسرائیلی وزیر اعظم کے مطابق "ہمیں پرتشدد اقلیت کی وجہ سے تمام عوام کو ذمہ دار نہیں ٹھہرانا چاہئیے ہے۔ اسرائیل کے عرب شہریوں کی اکثریت قانون کی پاسداری کرتی ہے اور جو کوئی بھی قانون توڑے گا ہم اس کے خلاف فیصلہ کن کارروائی کریں گے۔"

اسرائیلی رہنما بڑے فخر کے ساتھ یہ کہتے ہیں کہ ان کا ملک مشرق وسطیٰ کا واحد جمہوری ملک ہے اور وہ عرب اقلیت کے سول حقوق کو بہت زیادہ اہمیت دیتے ہیں۔ مگر اسرائیل کے عرب شہریوں کے لئے صورتحال بہت مشکل ہے۔

اسرائیل کی 80 لاکھ کی آبادی میں شامل 20 فیصد عرب شکایت کرتے ہیں کہ ان کے ساتھ دوسرے درجے کے شہریوں کی طرح کا رویہ رکھا جاتا ہے اور انہیں غربت، ملازمت اور گھروں کی فراہمی میں تعصب کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ بہت سے افراد کھلے عام فلسطینیوں پر بے وفا ہونے کا الزام لگایا ہے۔

حالیہ عرصے کے دوران اسرائیلی وزیر خارجہ افیغدور لائیبرمین نے اسرائیلی عرب باشندوں سے مطالبہ کیا تھا کہ وہ وفاداری کا حلف اٹھائیں اور تجویز پیش کی تھی کہ کسی بھی مستقبل کے امن معاہدے کی صورت میں ایسی سرحدیں کھینچی جائیں کہ عربوں کی زیادہ تعداد فلسطین کی جانب چلی جائیں۔

اسرائیل کی وزارت معیشت میں برابر ملازمت کی کمشنر تسیونا کونیغ یائیر نے کہا ہے کہ انہوں نے عرب ملازمین کی جانب سے حالیہ دنوں میں نسلی تعصب کی بنیاد پر ملازمتیں چھن جانے کی شکایات کی تعداد بہت بڑھ چکی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر یہ حکم واپس نہ لیا گیا تو وہ اس کے خلاف عدالت میں میں جانے کی تیاری کررہی ہیں۔

شیمونی اور وزیر داخلہ گیلاد اردان کو بھیجے جانے والے ایک خط میں عرب سول رائٹس گروپ عدالہ نے یہ اس فیصلے کو غیر منطقی اور نسلی تعصب پر مبنی قرار دیا اور زور دیا کہ اس فیصلے کو واپس لیا جائے۔

عسقلان میں جمعرات کے روز درجنوں افراد نے شیمونی کی حمایت میں مظاہرہ کیا۔ چینل 10 کے ایک سروے کے مطابق ۵8 فی صد یہودی عوام نے مئیر کی حمایت کی اور صرف 32 فیصد نے مخالف میں ووٹ ڈالا۔

حالیہ تنازعات کا مرکز بیت المقدس کا سب سے مقدس مقام ہے جس کو یہودی ٹیمپل مائونٹ جبکہ مسلمان حرم الشریف کے نام سے جانتے ہیں۔

مسلمان رہنمائوں کا خدشہ ہے کہ اسرائیل اس مقام پر قبضے کی کوشش کررہا ہے اور وہ مسلمان نمازیوں پر پابندیوں پر سیخ پا ہیں۔

زیادہ تر کشیدگی بیت المقدس میں ہی موجود ہے مگر اب ہنگامے شہر سے باہر پورے مقبوضہ فلسطین میں پھیل چکے ہیں۔

اسرائیلی حکام نے بیت المقدس میں حالیہ تنازعات میں شامل فلسطینی حملہ آوروں کے گھروں کو مسمار کرنے کا کام تیز کردیا ہے۔