.

شامی فوج وادی گولان میں اپنے اہم ٹھکانے سے محروم

البعث شہر پر نصرہ فرنٹ کا بھرپور حملے کے بعد قبضہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

اسرائیل سے متصل جنوبی شام کے علاقے وادی گولان میں شامی فوج کے آخری مرکز پر القاعدہ کی ذیلی تنظیم النصرہ فرنٹ اور دیگر گروپوں نے ایک بڑا حملہ کیا۔

غیر ملکی خبر رساں اداروں کے مطابق جمعرات کی شب النصرہ فرنٹ اور اس کے مقرب جنگجو گروپوں نے وادی گولان کے البعث شہر میں شامی فوج کے مرکز پر یلغار کی اور دیر تک اس کا محاصرہ کئے رکھا۔

خیال رہے کہ اسرائیلی سرحد سے چند سو میٹر دور اسدی فوج کا یہ مرکز اس علاقے میں آخری اہم ترین پوسٹ ہے۔ یہ حملہ شامی عسکریت پسندوں کی اس تازہ مہم جوئی کا حصہ ہے جس میں اس سے قبل وہ القنیطرہ گورنری سے اسدی فوج کو نکال کر مکمل قبضہ کر چکے ہیں۔ اس علاقے میں اہم ترین مقام البعث شہر اور خان آرنبہ قصبہ باقی بچے ہیں۔ البعث پر بھی شامی شدت پسند گروپوں نے ایک بڑا حملہ کرکے یہ ثابت کیا ہے کہ وہ آئندہ دنوں میں بشارالاسد کی فوج کو یہاں سے بھی نکال سکتے ہیں۔

ایک مقامی سماجی کارکن سعید الجولانی نے بتایا کہ جنگجو گروپ نے العبث شہر کے دو اہم قصبوں پر قبضہ کر لیا ہے۔ اگر وہ البعث شہر قبضہ کرنے میں کامیاب ہو جاتے ہیں تو یہ الرقہ شہر کے بعد دہشت گردوں کے قبضے میں شام کا دوسرا بڑا شہر بن جائے گا۔ خیال رہے کہ شام کا شمالی شہر الرقہ شدت پسند گروپ دولت اسلامی عرق و شام داعش کے قبضے میں ہے اور وہاں پر امریکا اور اس کے اتحادیوں کے حملے بھی جاری ہیں۔

مقامی شہری نے بتایا کہ البعث شہر میں گذشتہ دو روز سے اسدی فوج اور جنگجوئوں کے درمیان گھمسان کی جنگ جاری ہے۔ لڑائی میں شدت آنے کے بعد ہزاروں کی تعداد میں مقامی آبادی وہاں سے نقل مکانی پر مجبور ہو گئی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ البعث شہر میں کم سے کم 30 ہزار افراد آباد ہیں۔

خیال رہے کہ جنوبی شام میں سرگرم جنگجوئوں کی تعداد دو ہزار سے زاید بتائی جاتی ہے۔ انہوں نے پچھلے چند ماہ میں اسرائیل کی سرحد کے قریب شہر القنیطرہ پر قبضہ کر لیا تھا۔ وادی گولان کے اس شہر پر شامی باغیوں کا قبضہ نہایت اہمیت کا حامل ہے جس کے بعد اردن اور اسرائیل میں تشویش کی لہر دوڑ گئی تھی۔ وہاں سے دارالحکومت دمشق محض 65 کلومیٹرکی مسافت پر ہے۔ شامی عسکریت پسند البعث اور القنیطرہ قبضے کے ذریعے دارالحکومت کی طرف پیش قدمی کے لیے راہ ہموار کرنا چاہتے ہیں۔

النصرہ فرنٹ کے ایک فیلڈ کمانڈر عبداللہ سیف اللہ نے بتایا کہ جنگجو اسرائیل کی سرحد سے متصل علاقے الحمیدیہ میں ہیں جہاں سے وہ ٹینکوں، مارٹروں اور راکٹوں سے شامی فوج کو نشانہ بنا رہے ہیں۔