.

کرد دارالحکومت میں داعش کا کار بم دھماکہ، 4 ہلاک

داعش نے عراقی کردستان کے قلب تک پہنچنے کا اشارہ دے دیا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

داعش نے کردستان میں خود مختارکرد حکومت کے دارالحکومت اربیل میں کار بم دھماکہ کر کے چار افراد کو ہلاک کر دیا ہے۔ پچھلے چودہ ماہ کے دوران اربیل میں یہ ایک بڑی کارروائی ہے۔

ماضی میں کردوں کے غیر معمولی سکیورٹی اقدامات کی وجہ سے دارالحکومت ایربیل کو کافی محفوظ سمجھا جاتا رہا ہے، لیکن داعش کی اس کارروائی نے یہ ثابت کرنے کی کوشش کی ہے کہ داعش کرد علاقے کے قلب میں پہنچ گئی ہے۔

کار بم دھماکہ کرنے والے کی شناخت عبدالرحمان الکردی کے نام سے کی گئی ہے۔ جس کا مطلب ہے کہ وہ نسلی اعتبار سے کرد تھا۔

حملہ آور نےکردستان کے شمالی علاقے کے اس شہر کو جانے والے راستے پر قائم چیک پوائنٹ کو نشانہ بنایا جس کے نتیجے میں چار افراد ہلاک ہو گئے۔ تاہم عبدالرحمان الکردی کے بارے میں یہ معلوم نہیں ہو سکا کہ اس کا اپنا کس کرد علاقے سے تعلق تھا۔

کرد حکام نے ستمبر 2013 کے بعد سے اربیل میں اس دھماکے کو بڑا دھماکہ قرار دیا ہے۔ ستمبر 2013 میں عسکریت پسندوں نے کرد سکیورٹی فورس کے ہیڈ کوارٹرز کو نشانہ بنا کر چھ افراد کو ہلاک اور ساٹھ کو زخمی کر دیا تھا۔

سکیورٹی اداروں نے بعدازاں بتایا تھا کہ عسکریت پسندوں نے ہیڈ کوارٹر کے دروازے میں بم نصب کیا تھا۔ عراق کے تین صوبوں پر مشتمل نیم خود مختار کرد علاقہ ملک میں جاری بد امنی سے مقابلتا محفوظ رہا ہے اور یہاں دہشت گردی کے واقعات کم ہی ہوئے ہیں۔

لیکن اب جبکہ کرد ملیشیا ملک کے بڑے حصے پر قابض ہوجانے والی داعش کے ساتھ نبرد آزما ہے داعش مزید علاقوں کو زیر قبضہ کرنے کے لیے کوشاں نظر آتی ہے۔

کرد ملیشیا، عراقی فوج اور امریکی قیادت میں عالمی اتحاد سبھی کا مشترکہ ہدف داعش اور اس کے عسکریت پسند ہیں۔ اس وجہ سے داعش کی پیش قدمی میں رکاوٹ آگئی ہے۔

تاہم داعش نے ماہ اگست میں شمالی عراق میں اپنی کارروائیاں تیز کرتے ہوئے کرد ملیشیا کو اربیل تک محدود کردیا تھا۔