عراق میں 25 قبائلی موت کے گھاٹ اتار دیے گئے

دہشت گردوں کے ہاتھوں وحشیانہ قتل عام جاری

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size

عراق کے شورش زدہ شہر الرمادی میں دہشت گردوں نے تین اطراف سے حملہ کر کے دولت اسلامی 'داعش' مخالف البونمر قبیلے کے کم سے کم 25 افراد کو موت کے گھاٹ اتار دیا ہے۔

العربیہ ٹی وی کے ذرائع کے مطابق جمعہ اور ہفتہ کی درمیانی شب دہشت گردوں نے رمادی کے مشرقی علاقے السجاریہ میں البونمر قبیلے کے مرکز پر حملہ کیا اور قبیلے کے دسیوں افراد کو گولیاں مار کر قتل کر دیا گیا۔

عراقی سیکیورٹی ذریعے کا کہنا ہے کہ دہشت گرد جنگجوئوں نے دریائے فرات کے بائیں کنارے پر عراقی سیکیورٹی فورسز کو روک کر کشتیوں کی مدد سے مشرقی الرمادی م

یں السجاریہ کے مقام پر حملہ کیا۔ السجاریہ میں بھی عراقی فورسز اور جنگجوئوں کے درمیان گھمسان کی جنگ جاری ہے۔ادھر الرمادی شہر کے متاثرہ قبائل نے تازہ قتل عام کی ذمہ داری عراقی حکومت اور فوج پر عاید کی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ دہشت گردوں کے حملے سے قبل انہوں نے فوج اور حکومت کو فوری کمک فراہم کرنے کے لیے مطلع کر دیا تھا مگر بر وقت دفاعی کوشش نہ ہونے کی وجہ سے دہشت گردوں کو چڑھائی کا موقع ملا۔

الرمادی میں دہشت گردوں نے شمال، مشرق، مغرب اور جنوبی اطراف سے ایک تازہ حملہ کیا۔ گذشتہ روز اسی شہر میں دہشت گردوں نے الحوز اور جزیرہ بوعلی الجاسم کے مقامات پر سیکیورٹی فورسز کے دو مراکز کو کار بم حملوں سے نشانہ بنایا گیا تھا۔ جس میں کئی افراد ہلاک اور زخمی ہو گئے تھے۔ عسکریت پسندوں کی جانب سے پولیس اور فوج کی چوکیوں پر ہاون راکٹوں سے بھی حملے کیے گئے ہیں۔

درایں اثناء امریکی سینٹرل کمانڈ نے دعویٰ کیا ہے کہ رات گئے اتحادی فوجوں نے رمادی میں دولت اسلامی کے دہشت گردوں کے ٹھکانوں پر بمباری کی ہے جس میں ان کے کئی ٹھکانے تباہ کر دیے گئے ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں