مقبوضہ بیت المقدس: ایک اور یہودی گھائل ،ایک پر تشدد

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

مقبوضہ بیت المقدس میں ایک نامعلوم حملہ آور نے ایک یہودی کو پشت میں چاقو گھونپ دیا ہے۔ایک اور یہودی کو لوہے کے راڈ سے تشدد کا نشانہ بنایا گیا ہے۔

العربیہ نیوز کے نمائندے نے اسرائیلی پولیس کے ایک بیان کے حوالے سے اطلاع دی ہے کہ یہودی عبادت گزاروں کے ایک گروپ پر بیت حوروت کی جانب جاتے ہوئے حملہ کیا گیا ہے۔بیت حوروت یہود کا ایک مدرسہ ہے۔ اس کو قوم پرست ربی بینی ایلن نے 1999ء میں کوہ زیتون پر تعمیر کیا تھا۔فوری طور پر اس واقعے کی مزید تفصیل سامنے نہیں آئی ہے۔

واضح رہے کہ گذشتہ منگل کو مقبوضہ بیت المقدس میں دو فلسطینیوں نے ایک یہودی معبد پر حملہ کردیا تھا جس کے نتیجے میں ایک پولیس اہلکار سمیت پانچ افراد ہلاک ہوگئے تھے۔

مقبوضہ بیت المقدس میں اسرائیلی فورسز اور انتہا پسند یہودی آبادکاروں کے اشتعال انگیز اقدامات کی وجہ سے شدید کشیدگی پائی جارہی ہے۔انتہا پسند یہود مسجد الاقصیٰ میں عبادت کے نام پر دراندازی کے لیے ایک عرصے سے مہم چلا رہے ہیں۔ان میں آبادکار یہودی پیش پیش ہیں۔ان کے ان مذموم عزائم کے خلاف فلسطینی سراپا احتجاج بنے ہوئے ہیں۔

فلسطینیوں کا الزام ہے اسرائیل یہودی عبادت گزاروں کو مسجد الاقصیٰ میں آنے کی اجازت دینے کے لیے اس کی حیثیت تبدیل کررہا ہے جبکہ انتہا پسند صہیونی وزیراعظم بنجمن نیتن یاہو کا کہنا ہے کہ ان کی حکومت کا ایسا کوئی ارادہ نہیں ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں