یمنی وزیر ثقافت کا انسانی حقوق ایوارڈ یہودیوں کے نام

عروہ عثمان کی خدمات پر ایوارڈ ہیومن رائٹس واچ نے دیا تھا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
1 منٹ read

شورش زدہ یمن کی وزیر ثقافت عروہ عثمان نے یمنی یہودی آبادی کے لیے غیر معمولی جذبے اور محبت کے اظہار کے طور پر حال ہی میں حاصل کیا اپنا ایوارڈ یمنی یہودیوں کے نام کرنے کا اعلان کیا ہے۔

خاتون وزیر ثقافت کو یہ ایوارڈ انتہا پسندی کے خلاف کوششوں اور عورتوں سے امتیاز برتنے کے خلاف خدمات کی بنا پر ملا تھا۔ یمنی وزیر کو ہیومن رائٹس واچ کی طرف سےایلیسن ڈیس فارگیس کو دو ماہ قبل ستمبر میں پیش کیا گیا تھا۔

تاہم اب صنعاء میں اس سلسلے میں ہونے والی ایک تقریب کے موقع پر وزیر ثقافت نے اعلان کیا ہے "میں اپنا یہ ایوارڈ اپنے یہودی کمیونٹی سے تعلق رکھنے والے بھائیوں اور دوستوں کے نام کرتی ہوں۔"

وزیر ثقافت کو انسانی حقوق کے لیے اس کام اور سرگرمیوں کی وجہ سے سلفیوں کی طرف سے مشکلات کا بھی سامنا کرنا پڑا تھا، کیونکہ وہ یہودیوں کی کھلی حمایت کرتی ہیں۔

ایک یہودی ادارے کے مطابق یمن میں لگ بھگ 90 یہودی رہتے ہیں۔ ان میں آدھے یہودیوں کو صنعاء میں موجود امریکی سفارت خانہ تحفظ فراہم کرتا ہے۔ ان پر عام طور پر سنی اور شیعہ مسلمان یکساں طور پر حملے کرتے ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں