.

اسرائیل: ایک یہودی ریاست، متنازعہ بل منظور

وزیرانصاف، وزیرخزانہ اور اٹارنی جنرل نے بل کی مخالفت کردی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

انتہا پسند اسرائیلی وزیراعظم بنجمن نیتن یاہو کی کابینہ نے اسرائیل کو صرف یہودی عوام کا قومی وطن بنانے کے لیے ایک متنازعہ قانون کی منظوری دے دی ہے۔

اتوار کو مقبوضہ بیت المقدس میں اسرائیلی کابینہ کے گرما گرم اجلاس میں چودہ وزراء نے اس متنازعہ مجوزہ قانون کے حق میں ووٹ دیا ہے اور چھے وزراء نے اس کی مخالفت کی ہے۔ان میں دو سنٹر جماعتوں حانواح سے تعلق رکھنے والی وزیرانصاف زیپی لیونی اور یش عتید کے وہ نما وزیرانصاف یائر لیپڈ بھی شامل ہیں۔

اس مجوزہ بل کو قانون بنانے کے لیے اب پارلیمان میں پیش کیا جائے گا۔اگر اسرائیلی پارلیمان اس کی منظوری دے دیتی ہے تو پھر یہودیوں کی اسرائیلی علاقوں میں آباد عربوں کے ساتھ کشیدگی میں اضافہ ہوگا اور وہ انھیں زبردستی اپنے علاقوں سے نکالنے کی کوششیں کریں گے یا ان کا ناطقہ بند کردیں گے۔

تجزیہ کاروں کے بہ قول اس مجوزہ قانون سے نیتن یاہو کی مخلوط حکومت خطرے سے دوچار ہوسکتی ہے کیونکہ ان کی حکومت میں شامل دو سنٹر جماعتیں اس کی شدید مخالفت کررہی ہیں۔ واضح رہے کہ عرب اسرائیل کی کل آبادی کا بیس فی صد ہیں۔

اس بل میں اسرائیل کے صہیونی کردار کو تسلیم کرنے پر زوردیا گیا ہے۔ اس کے تحت یہود کے قوانین قانون سازی کا بنیادی مآخذ ہوں گے،عربی کا ایک سرکاری زبان کی حیثیت سے درجہ ختم کردیا جائے گا۔

اس بل کے مخالفین کا کہنا ہے کہ اس سے اسرائیل کی جمہوری شناخت پر حرف آئے گا۔انسانی حقوق کی تنظیموں نے اس کو نسل پرستانہ قرار دیا ہے۔ اسرائیل میں عرب اقلیت کے حقوق کےعلمبردار ایک گروپ العدالۃ کے ایک عہدے دار مجد قیال نے خبردار کیا ہے کہ ''اگر یہ بل قانون بن جاتا ہے تو اس کا یہ مطلب ہوگا کہ نسل پرستی کو باقاعدہ قانونی شکل دے دی جائے گی جبکہ وہ پہلے ہی گلیوں اور بازاروں میں قانون اور سیاسی نظام کی ایک حقیقت کی شکل میں موجود ہے''۔

انھوں نے مزید کہا کہ ''جمہوریت اس بات کی ضمانت دیتی ہے کہ ریاست کی نظر میں تمام شہریوں کو برابری کی بنیاد پر حقوق حاصل ہیں لیکن نسل پرستانہ تبدیلی کے نام پر مذہب کی بنیاد پر ایک امتیازی قانون متعارف کرایا جارہا ہے''۔

اسرائیل کے اٹَارنی جنرل یہودا وینسٹین نے اس مجوزہ قانون کی مخالفت کی ہے اور اس کو تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔ان کا کہنا ہے کہ اس سے ریاست کا جمہوری تشخص متاثر ہوگا۔

واضح رہے کہ گذشتہ ہفتے اسرائیل کی وزیرانصاف زیپی لیونی اس سے ملتے جلتے ایک مجوزہ قانون پر رائے شماری موخر کرانے میں کامیاب رہی تھیں۔اسرائیل کی اوپن یونیورسٹی میں سیاسیات کے پروفیسر ڈینس شربیت نے اپنے تئیں یہ پیشین گوئی کی ہے کہ اس مجوزہ قانون کا حتمی مسودہ اعتدال پسندانہ ہوگا۔

ان کا کہنا ہے کہ ''یہ ایک سیاسی حربہ ہے۔نیتن یاہو یہ بات بخوبی جانتے ہیں کہ اس ناقابل قبول بل پر رائے شماری مسائل پیدا کرے گی کیونکہ حکومت کے قانونی مشیراعلیٰ بھی اس کو تنقید کا نشانہ بنا رہے ہیں''۔

ان صاحب نے مزید کہا کہ ''نیتن یاہو کا تجویز کردہ مسودہ زیادہ اعتدال پسندانہ ہے لیکن یہ اب بھی مسائل پیدا کرنے والا ہے کیونکہ اس میں صہیونی کردار کو ریاست کے جمہوری کردار سے الگ تھلگ کردیا گیا ہے''۔