.

فلسطین کے لیے فرانسیسی قرارداد پر تشویش ہے، نیتن یاہو

فرانس کی سوشلسٹ پارٹی کی طرف سے قرارداد کی پارلیمان میں پیش

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

اسرائیلی وزیراعظم بنجمن نیتن یاہو نے فرانس کی طرف سے فلسطینی ریاست کو تسلیم کرنے کی قراداد کے لیے کوشش کو ایک غیر ذمہ دارانہ حرکت سے تعبیر کیا ہے۔

اسرائیلی وزیراعظم کے حوالے سے اسرائیل کی نیوز ویب سائٹ 124 نیوز نے رپورٹ کرتے ہوئے کہا ہے "بلاشبہ میں فرانسیسی ووٹنگ پر تشویش محسوس کرتا ہوں کیونکہ فلسطین کے حوالے سے جو کچھ وہ ووٹنگ کے ذریعے کرنا چاہتے ہیں وہ امن سے متصادم ہے۔"

نیتن یاہو نے یہ بات فرانسیسی پارلیمنٹ میں قرارداد پر ووٹنگ سے ایک روز قبل کہی گئی ہے، اس قرارداد میں فرانس کی پارلیمنٹ حکومت سے مطالبہ کرنے جا رہی ہے کہ فلسطینی ریاست کو تسلیم کیا جائے۔"

اس متوقع ووٹنگ والی قرارداد کو اسمبلی میں سوشلسٹ پارٹی کی طرف سے پیش کیا گیا ہے، تاہم اس قرارداد کی قانونی اعتبار سے حیثیت محض توجہ دلانے اور مطالبہ کرنے سے زیادہ کچھ نہیں ہو گی۔

ایسی ہی ایک قرارداد اس سے پہلے برطانوی پارلیمنٹ کی طرف سے بھی منظور ہو چکی ہے۔ جس پر اسرائیل نے غم و غصے کا اظہار کیا تھا۔ اسرائیل سمجھتا ہے کہ اس طرح کی کوششوں سے اسرائیل کی عالمی سطح پر سیاسی پوزیشن خراب ہورہی ہے۔

نیتن یاہو نے کہا "یہی بات فلسطینی چاہتے ہیں کہ ان کی ریاست قائم ہو لیکن وہ اسرائیل کے ساتھ اپنی لڑائی ختم نہیں کرنا چاہتے ہیں، حالانکہ حقیقت یہ ہے کہ ہم فلسطینیوں کو کئی مرتبہ زمین دے چکے ہیں جیسا کہ غزہ کی مثال ہے، لیکن ایران نے وہاں ایک پراکسی جنگ شروع کر رکھی ہے۔"

انہوں نے مزید کہا "غزہ سے ہمارے شہروں پر ہزاروں راکٹ چلائے جا چکے ہیں، لیکن ہے کوئی فرانس میں جو اس پر بھی بات کرے۔" اسرائیلی وزیر اعظم کا یہ موقف اس کے بعد سامنے آیا ہے جب ان کی کابینہ نے اسرائیل کو ایک کلی طور پر یہودی ریاست بنانے کی منظوری دی گئی ہے۔

اس بارے میں اب اسرائیلی پارلیمنٹ سے منظوری حاصل کی جائے گی۔ تاہم اسرائیلی حکومت کے عزائم سے کشیدگی کو بڑھانے کے رجحان کی نشاندہی ہوتی ہے۔