.

کرد خواتین جنگجو کوبانی میں داد شجاعت دے رہی ہیں

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

"العربیہ" کو حال ہی میں اپنے ذرائع سے ایسی تصاویر ملی ہیں جن سے کرد خواتین جنگجووں کی کوبانی میں آمد کی تصدیق ہوتی ہے۔ انہی میں بعض ایسی تصاویر بھی ہیں کہ جو ایران سے کوبانی میں انتہا پسندوں کے خلاف لڑائی کی غرض سے آنے والے کرد مرد جنگجووں کی کوبانی میں آمد کی چغلی کھاتی ہیں۔

رضا کاروں نے شورش زدہ شہر عین العرب [کوبانی] کے گلی کوچوں میں بڑے پیمانے پر تباہی کو مانیٹر کیا ہے جبکہ ساتھ ساتھ کرد جنگجووں اور انتہا پسندوں کے درمیان معرکہ آرائی کی بھی اطلاعات مسلسل موصول ہو رہی ہیں۔

کرد خواتین جنگجو حالیہ چند دنوں میں بری طرح جنگی تباہی کا منظر پیش کرنے والے شہر کوبانی آئیں جہاں اب شہر کے نام کے سوا کوئی شے سلامت نہیں رہی۔ یہ تباہی شہر کی مختلف کالونیوں کے اندر گلی گلی لڑی جانے والی لڑائی کی کہانی زبان حال سے سنی جا سکتی ہے۔ بالخصوص فیلڈ کمانڈروں کا دعوی ہے کہ کوبانی میں جیش الحر، کرد فورس البشمرکہ کی کمک پہنچنے کے بعد شہر میں طاقت کا توازن تبدیل ہو گیا ہے۔ کرد جنگجووں نے شہر میں جیش الحر کے ساتھ ملکر حملے کر رہی ہیں جبکہ داعش پسپائی پر مجبور دکھائی دیتی ہے۔

درایں اثنا فیلڈ کمانڈروں نے مزید بتایا کہ کوبانی کے مختلف حصوں میں مختلف نوعیت کے اسلحے سے فائرنگ جاری ہے۔ اس کھلی جنگ کے بعد شہر میں تباہ شدہ عمارتوں اور سلامت کمپاونڈز کا تناسب ففٹی ففٹی ہو گیا ہے۔