شامی طیاروں کی الرقہ میں داعش پر بمباری،70 افراد ہلاک

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

شام کے شہر الرقہ میں صدر بشارالاسد کی فوج کے جنگی طیاروں نے سخت گیر جنگجو گروپ داعش کے ٹھکانوں پر شدید بمباری کی ہے جس کے نتیجے میں کم سے کم ستر افراد ہلاک ہوگئے ہیں۔

برطانیہ میں قائم شامی آبزرویٹری برائے انسانی حقوق کے ڈائریکٹر رامی عبدالرحمان نے بتایا ہے کہ شامی فوج کے کم سے کم دس طیاروں نے الرقہ میں مختلف مقامات پر دس حملے کیے ہیں۔الرقہ پر داعش کا اگست سے مکمل کنٹرول ہے اور یہ شام میں ان کا ایک طرح کا دارالحکومت ہے۔

انھوں نے مزید بتایا ہے کہ شامی طیاروں نے زیادہ تر فضائی حملے شہر کے مشرقی حصے میں کیے ہیں۔بمباری میں تریسٹھ افراد مارے گئے ہیں۔ان میں چھتیس عام شہری ہیں اور دوسرے مہلوکین کے بارے میں بھی یہ بات یقینی نہیں ہے کہ وہ تمام جنگجو ہیں یا ان میں بھی شہری شامل ہیں۔

شامی حکومت نے الرقہ پر اس فضائی حملے کے حوالے سے فوری طور پر کوئی بیان جاری نہیں کیا ہے۔ایسوسی ایٹڈ پریس (اے پی) نے شام کی مقامی رابطہ کمیٹیوں کے حوالے سے اطلاع دی ہے کہ فضائی بمباری میں کم سے کم ستر افراد ہلاک ہوئے ہیں۔الرقہ سے تعلق رکھنے والی ایک اور غیر سرکاری تنظیم نے ہلاکتوں کی تعداد اسّی بتائی ہے۔تاہم آزاد ذرائع سے ان ہلاکتوں کی تصدیق ممکن نہیں ہے۔

داعش کے ایک جنگجو نے شامی فوج کے الرقہ پر فضائی حملوں کی تصدیق کرتے ہوئے کہا ہے کہ ان میں ستر افراد مارے گئے ہیں۔واضح رہے کہ امریکا کی قیادت میں بعض عرب اور مغربی ممالک کے جنگی طیارے بھی ستمبر سے شام میں داعش کے ٹھکانوں پر فضائی حملے کررہے ہیں۔اس کے بعد سے شامی فضائیہ نے بھی داعش کے زیر قبضہ علاقوں پر فضائی حملے تیز کردیے ہیں۔

بعض تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ امریکا اور اس کے اتحادی ممالک داعش کے سوا دوسرے باغی گروپوں کو مسلح کرنے اور انھیں تربیت دینے کے لیے بھی اقدامات کررہے ہیں۔شامی حکومت ان جنگجو گروپوں کے تربیت حاصل کرنے سے قبل ہی صورت حال کا فائدہ اٹھانا چاہتی ہے۔وہ داعش سمیت تمام باغی گروپوں کو کمزور کرنے کے لیے کوشاں ہے اور وہ ان کو فضائی حملوں میں نشانہ بنا رہی ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں