عراقی صوبہ الانبار پر داعش کے قبضے کی وارننگ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

عراق میں دہشت گردوں کے خلاف عالمی اتحادیوں کے حملوں کے باوجود شدت پسند تنظیم دولت اسلامی (داعش) نے تیزی کے ساتھ سنی اکثریتی صوبہ الانبار کی طرف پیش قدمی شروع کر رکھی ہے جس کے بعد الانبار کی انتظامیہ نے داعش کے ممکنہ خطرے کی وارننگ جاری کرتے ہوئے ہنگامی امداد کا مطالبہ کیا ہے۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق الانبار گورنری اور صوبائی کونسل کی جانب سے باضابطہ طور پر داعش کے حملے کی وارننگ جاری کی گئی ہے اور خبردار کیا گیا ہے کہ اگر عالمی برادری اور عراقی فوج کی جانب سے داعش کے خلاف فوری کارروائی نہ کی گئی دہشت گرد الانبار پر قبضہ کر سکتے ہیں۔

خیال رہے کہ الانبار کی آبادی اہل سنت قبائل پر مشتمل ہے اور وہاں کی مقامی آبادی اور سابق عراقی وزیر اعظم نوری المالکی کے درمیان بھی کشمکش رہ چکی ہے۔ نوری المالکی نے گذشتہ برس الانبار کے ایک منتخب رکن اسمبلی احمد العلوانی کو قتل کرا دیا تھا جس کے بعد دہشت گردی کے خلاف مقامی قبائل کی قوت کافی حد تک کمزور پڑ گئی تھی۔

عراقی فوج نے الانبار کے قبائلی جنگجوؤں کو ساتھ ملا کر شہر کے مغربی سمت میں السراجیہ اور المحبوبیہ قصبوں پر دوبارہ قبضے کے لیے منصوبہ بندی کی ہے۔ یہ دونوں قصبے داعش کے اہم مراکز سمجھے جاتے ہیں۔

الانبار کی انتظامی کونسل کی جانب سے جاری ایک بیان میں بتایا گیا ہے کہ الرمادی شہر کا بیشتر علاقہ داعش کے دہشت گردوں سے کلیئر کرا لیا گیا ہے تاہم شہر کے جنوب میں دہشت گردوں کے ساتھ جھڑپیں ابھی جاری ہیں۔ کونسل کی جانب سے کہا گیا ہے کہ سابق پولیس چیف میجر جنرل احمد صداق الدلیمی کی قیادت میں مقامی قبائل کو داعش کے خلاف منظم کیا جا رہا ہے لیکن ان کی مدد کے لیے عراقی فوج اور عالمی اتحادیوں کی کارروائیوں کی بھی ضرورت پڑے گی۔

ادھر الانبار کی صوبائی کونسل کے سربراہ صباح الکرحوت کا کہنا ہے کہ سابق رکن اسمبلی احمد العلوانی کو سزائے موت دینے کا وقت نامناسب تھا۔ یہ سابق حکومت کا ایک غلط فیصلہ تھا جو کلیتاً سیاسی بنیادوں پر کیا گیا جس کے نتیجے میں الانبار کے قبائل کی قوت اور وحدت کو پارہ پارہ کر دیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ العلوانی کا قبیلہ بو العلوانی الرمادی میں دہشت گردوں کے خلاف نبرد آزما رہا ہے۔

الکرحوت کا یہ بیان ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب عراقی حکومت میں اعلیٰ سطح پر العلوانی کی قتل کی تحقیقات کے لیے کوششیں بھی شروع ہو گئی ہیں۔ اسی سلسلے میں عراق کے نائب صدر اسامہ النجیفی نے وزیر اعظم حیدر العبادی سے ملاقات کی ہے۔انہوں نے مطالبہ کیا ہے کہ احمد العلوانی کو سابق حکومت کی جانب سے قتل کیے جانے کے معاملے کی شفاف تحقیقات کی جانی چاہئیں تاکہ العلوانی قبیلے کی ناراضی دور کرکے انہیں پھر سےحکومت کا حلیف اور دہشت گردی کے خلاف جنگ میں معاون بنایا جا سکے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں