.

سیناء میں حملہ ،ایک مصری افسر،دو فوجی مارے گئے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

مصر کے شورش زدہ علاقے شمالی سیناء کے صوبائی صدر مقام العریش میں مشتبہ جنگجوؤں نے سکیورٹی فورسز کی ایک گاڑی پر حملہ کیا ہے جس کے نتیجے میں ایک کرنل اور دو فوجی مارے گئے ہیں۔
مصر کی وزارت داخلہ کی جانب سے جاری کردہ بیان کے مطابق حملہ آور کار میں سوار تھے اور انھوں نے صوبائی دارالحکومت العریش میں ایک پک اپ ٹرک پر فائرنگ کی ہے جس کے نتیجے میں اس میں سوار فوج کا ایک کرنل اور دو اہلکار جان سے ہاتھ دھو بیٹھے ہیں۔

العریش ہی میں چند روز قبل سڑک کے کنارے نصب بم کے دھماکے میں دو پولیس اہلکار ہلاک ہوگئے تھے۔مصر نے اسرائیل اور غزہ کی پٹی کی سرحد کے ساتھ واقع جزیرہ نما سیناء میں 24 اکتوبر کو دو حملوں میں تینتیس سکیورٹی اہلکاروں کی ہلاکت کے بعد سے ایمرجنسی نافذ کررکھی ہے۔

مصری فورسز تب سے غزہ کی پٹی کے ساتھ پانچ سو میٹر گہرا بفر زون قائم کرنے کے لیے اقدامات کررہی ہیں۔ سرحدی علاقے میں آنے والے مکانوں اور درختوں کو مسمار کیا جارہا ہے اور سرحدی علاقے سے غزہ کی جانب جانے والی سرنگوں کو بھی ختم کیا جارہا ہے۔ان سرنگوں کو غزہ سے تعلق رکھنے والے فلسطینی مزاحمت کار اسلحے اور اشیاء کی نقل و حمل کے لیے استعمال کرتے ہیں۔

غزہ کی پٹی کے ساتھ واقع قصبے رفح کے نزدیک اس بفرزون کو ایک کلومیٹر تک چوڑا کیا جارہا ہے اور یہ اقدام وہاں آٹھ سو سے ایک ہزار میٹر طویل سرنگوں کی دریافت کے بعد کیا گیا ہے۔واضح رہے کہ سیناء میں انصار بیت المقدس اور دوسرے جنگجو گروپ 3 جولائی 2013ء کو مصر کے پہلے منتخب صدر محمد مرسی کی برطرفی کے بعد سے سکیورٹی فورسز پر حملے کررہے ہیں۔ان حملوں میں بیسیوں فوجی اور پولیس اہلکار مارے جاچکے ہیں۔

انصار بیت المقدس نے عراق اور شام میں برسرپیکار سخت گیر جنگجو گروپ داعش کے ساتھ الحاق کررکھا ہے۔اس تنظیم کا کہنا ہے کہ وہ مرسی نواز مظاہرین کے خلاف فوج اور پولیس کے کریک ڈاؤن کے ردعمل میں یہ حملے کررہی ہے۔مصری سکیورٹی فورسز انصار بیت المقدس اور دوسرے جنگجو گروپ کے خلاف گذشتہ مہینوں سے ایک بڑی کارروائی کررہی ہیں لیکن ابھی تک وہ ان جنگجو گروپوں کا مکمل صفایا کرنے میں کامیاب نہیں ہوئی ہیں اور وہ آئے دن سکیورٹی فورسز پر انتقامی حملے کرتے رہتے ہیں۔