.

داعش کے جنگجو کرکوک پر قبضے میں ناکام

عراقی فوج اور کرد ملیشیا نے داعش کا حملہ پسپا کردیا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

عراقی فوج اور کرد سکیورٹی فورسز البیش المرکہ نے تیل کی دولت سے مالا مال شمالی شہر کرکوک پر داعش کے جنگجوؤں کے قبضے کی کوشش ناکام بنا دی ہے اور شدید لڑائی کے بعد ان کے بڑے حملے کو پسپا کردیا ہے۔

داعش کے جنگجوؤں نے بدھ کی صبح کرکوک کے مغرب کی جانب واقع تین دیہات پر چڑھائی کی تھی جس کے بعد ان کی عراقی فوج اور البیش المرکہ کے ساتھ لڑائی شروع ہوگئی جو کئی گھنٹے تک جاری رہی ہے۔ البیش المرکہ کے ایک میجر جنرل وستا رسول نے بتایا ہے کہ ''داعش کے جنگجو تیل کی تنصیبات پر قبضہ کرنا چاہتے تھے''۔

داعش کے جنگجو ان تین میں سے ایک گاؤں پر قبضے میں کامیاب ہوگئے تھے مگر بعد میں کرد فورسز نے امریکا اور اس کے اتحادیوں کے جنگی طیاروں کے فضائی حملوں کی مدد سے اس گاؤں کا دوبارہ کنٹرول حاصل کر لیا ہے اور داعش کو وہاں سے بھی پسپا کردیا ہے۔ایک مقامی افسر اور ڈاکٹر کے مطابق اس لڑائی میں البیش المرکہ کے ایک کرنل سمیت چھے اہلکار ہلاک اور اٹھائیس زخمی ہوگئے ہیں۔

ادھر مغربی صوبے الانبار کے دارالحکومت رمادی میں بھی داعش کے جنگجوؤں اور عراقی سکیورٹی فورسز کے درمیان شدید لڑائی کی اطلاع ملی ہے اور عراقی فوجی شہر کے وسط میں واقع سرکاری کمپلیکس کے دفاع کی کوشش کررہے ہیں۔عراقی پولیس کے ایک کرنل حامد شاندخ نے بتایا ہے کہ جنگجو صوبائی گورنر کے دفتر سے چند میٹر کے فاصلے پر رہ گئے ہیں۔

عراقی فوج کے کرنل صلاح آراک العلوانی نے بھی رمادی کے وسط میں عراقی فورسز اور داعش کے جنگجوؤں کے درمیان لڑائی کی تصدیق کی ہے اور کہا ہے کہ وہاں کوئی دس گھنٹے سے لڑائی جاری ہے۔عراقی فورسز کو مقامی قبائل کی مدد بھی حاصل ہے۔

صوبے کے گورنر احمد الدلیمی نے جرمنی سے الانبار ٹیلی ویژن سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ ''اگر ہم الانبار ہار گئے تو اس کا یہ مطلب ہوگا کہ ہم عراق ہار جائیں گے''۔وہ ستمبر میں مارٹر گولے کے حملے میں زخمی ہونے کے بعد سے جرمنی میں زیر علاج ہیں۔انھوں نے اس عزم کا اظہار کیا ہے کہ وہ بہت جلد داعش کے خلاف جنگ میں قبائل اور سکیورٹی فورسز کے درمیان موجود ہوں گے۔

واضح رہے کہ داعش کا رمادی کے بڑے حصے ،صوبے کے دوسرے بڑے شہر فلوجہ اور صوبے کے ایک بڑے علاقے پر کنٹرول قائم ہے۔اب عراقی حکام اس خدشے کا اظہار کررہے ہیں کہ اگر سرکاری فورسز کو فوری طور پر کمک نہ پہنچائی گئی تو اس پورے صوبے کا سقوط ہوسکتا ہے۔

عراقی سکیورٹی فورسز اور حکومت نواز ملیشیائیں اس وقت مختلف محاذوں پر داعش کے جنگجوؤں کے خلاف نبرد آزما ہیں اور انھیں امریکا کی قیادت میں اتحادی ممالک کے لڑاکا طیاروں کی فضائی مدد بھی حاصل ہے ۔انھوں نے داعش سے بعض علاقے واپس لے لیے ہیں لیکن شمالی عراق میں تین بڑے صوبوں دیالا ،صلاح الدین اور نینویٰ پر بدستور داعش کا کنٹرول برقرار ہے۔