.

مصر:تشدد کے واقعات، بریگیڈئیر جنرل سمیت 5 ہلاکتیں

قاہرہ میں اسلام پسند مظاہرین اور پولیس میں خونریز جھڑپیں

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

مصر کے دارالحکومت قاہرہ میں اسلام پسندوں کے حکومت کے خلاف مظاہرے کے دوران تشدد کے واقعات میں ایک فوجی سمیت چار افراد مارے گئے ہیں جبکہ مسلح افراد نے فائرنگ کرکے فوج کے ایک بریگیڈئیر جنرل کو ہلاک کردیا ہے۔

مصر کے پہلے منتخب صدر ڈاکٹر محمد مرسی کی برطرفی کے خلاف احتجاج کرنے والے سلفی محاذ نے صدر عبدالفتاح السیسی کی حکومت کے خلاف جمعہ کو ملک گیر مظاہروں کی اپیل کی تھی اور ملک کی سب سے بڑی مگر کالعدم مذہبی سیاسی جماعت اخوان المسلمون نے بھی اس کی حمایت کا اعلان کیا تھا۔

ان دونوں اسلامی جماعتوں نے اپنے حامیوں سے کہا تھا کہ وہ سروں پر قرآن مجید کے نسخے رکھ کر مظاہروں کے لیے سڑکوں پر نکلیں۔ان کی اس اپیل پر بعض مقامات پر ایسے مظاہرین نظر آئے ہیں جنھوں نے سروں پر قرآن مجید کے نسخے اٹھا رکھے تھے۔مصر کی وزارت داخلہ نے مظاہرین کے اس حربے کا توڑ کرنے کے لیے خصوصی سکیورٹی یونٹ تعینات کیے تھے۔

سکیورٹی ذرائع کے مطابق قاہرہ کے نواحی علاقے المطریہ میں پولیس اور مظاہرین کے درمیان جھڑپ ہوئی ہے جس کے نتیجے میں تین افراد ہلاک ہوگئے ہیں۔العربیہ کے نمائندے کی اطلاع کے مطابق قاہرہ کے میدان التحریر میں فوج کو ٹینکوں اور بکتربند گاڑیوں کے ساتھ تعینات کیا گیا تھا۔مصر کے دوسرے شہروں میں لوگوں کو حکومت کے خلاف احتجاجی مظاہروں سے روکنے کے لیے فوج کے خصوصی دستے اور پولیس کی بھاری نفری تعینات کی گئی تھی۔

قبل ازیں قاہرہ کے علاقے جسر السویز میں نامعلوم مسلح افراد نے فائرنگ کرکے فوج کے ایک بریگیڈئیر جنرل کو قتل کردیا ہے۔حملہ آور ایک بغیر لائسنس گاڑی میں سوار تھے اور ان کی فائرنگ سے دو افراد زخمی ہوگئے ہیں۔حملہ آور جائے وقوعہ سے فرار ہونے میں کامیاب ہوگئَے ہیں۔

مصری وزارت داخلہ نے جمعرات کو ایک بیان میں اخوان المسلمون سے وابستہ دہشت گردی کے ایک سیل کوتوڑنے کا بھی دعویٰ کیا تھا جو اس کے بہ قول جمعہ کو ملک بھر میں گڑ بڑ پھیلانے کی منصوبہ بندی کررہا تھا۔بیان کے مطابق اس گروپ کے ارکان فوجی وردیاں پہن کر دہشت گردی کی کارروائیوں کی منصوبہ بندی کررہے تھے۔