.

"جوہری معاملے پر مذاکرات میں توسیع پر کوئی اعتراض نہیں"

ایران میں فیصلہ کن اور بااختیار شخصیت سپریم لیڈر کا بیان

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی عظمیٰ خامنہ ای نے واضح کیا ہے انہیں جوہری تنازع پر عالمی طاقتوں سے مذاکرات میں سات ماہ کی توسیع پر کوئی اعتراض نہیں۔ ان کے اس موقف سے حکومت بالخصوص مذاکراتی ٹیم کے موقف کو تقویت ملے گی جو اس وقت خامنہ ای کے شدت پسند حاشہ نشینوں کی جانب سے معاہدے میں ناکامی پر سخت تنقید کا سامنا کر رہے ہیں۔ شدت پسند حلقوں کا کہنا ہے کہ تہران حکومت عالمی برادری سے جوہری معاملے پر ڈیل کر لیتی توعالمی اقتصادی پابندیوں کے منفی اثرات زائل ہو جاتے۔

غیر ملکی خبر رساں اداروں کی رپورٹس کے مطابق آیت اللہ علی خامنہ انے اپنے ایک بیان میں کہا کہ جوہری معاہدے کے حوالے سے 24 نومبر کو ختم ہونے والی مہلت کے بعد معاملہ مزید سات ماہ کے لیے ملتوی ہونے سے کوئی آسمان نہیں ٹوٹ پڑے گا۔ اب کی بار بھی امریکا ہی خسارے میں رہا ہے۔ ایران کو کوئی نقصان نہیں ہوا۔ معاہدے کی ڈیڈ لائن میں مزید توسیع کا نقصان بھی امریکیوں ہی کو ہو گا۔

انہوں نے کہا کہ میں ذاتی طور پر جوہری مسئلے پر مذاکرات کا مخالف ہوں اور نہ ہی مجھے معاہدہ نہ ہونے اور ڈیڈ لائن کی توسیع پر کوئی اعتراض ہے۔

ایرانی سپریم لیڈر نے اپنے مذاکراتی وفد کی مساعی کی تعریف کی اور کہا کہ مذاکراتی ٹیم نے نہایت جانفشانی کے ساتھ تنازع کے حل کے لیے صدق دل کے ساتھ کوششیں کیں۔ لیکن فریق مخالف کی جانب سے طاقت اور دھونس کے استعمال کی پالیسی اختیار کی گئی۔ اس کے باوجود ہمارے مذاکرات کار اپنے مطالبات سے دستبردار نہیں ہوئے۔

آیت اللہ علی خامنہ ای کا کہنا تھا کہ اگر مذاکرات ناکام ہوئے ہیں تو اس سے ایران کو کوئی نقصان نہیں پہنچے گا کیونکہ ہمارے پاس’’مزاحمتی معیشت‘‘ کا آپشن موجود ہے۔ خیال رہے کہ مزاحمتی معیشت کی اصطلاح ایران میں ان دنوں بہ کثرت استعمال کی جا رہی ہے جس سے مراد ایران کے دیگر قدرتی وسائل ہیں۔ ایران اپنے قدرتی وسائل روک کر عالمی برادری پر دبائو ڈالنے کی کوشش کر رہا ہے اور اسے ’مزاحمتی معیشت‘ قرار دیا جا رہا ہے۔

ایران اور 5+1 کے درمیان گذشتہ پیر کو مذاکرات ناکام ہو گئے تھے۔ یہ رواں سال میں فریقین میں کسی معاہدے تک پہنچنے میں ناکامی کا دوسرا موقع ہے۔ اب ایران نے خود ہی مغرب سے سات ماہ کی مہلت لی ہے۔