.

مصر: حسنی مبارک سینکڑوں مظاہرین کے مقدمہ قتل میں بری

سینکڑوں مظاہرین مبارک حکومت کے خلاف احتجاج کے دوران ہلاک ہوئے تھے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

مصر کی ایک عدالت نے سینکڑوں مصری مظاہرین کو قتل کرنے میں ملوث ہونے کے الزام سے سابق مطلق العنان حکمران حسنی مبارک کو باعزت طور پر بری کر دیا ہے۔

سینکڑوں مظاہرین کو مصری سکیورٹی فورسز نے اس وقت ہلاک کر دیا تھا، جب وہ حسنی مبارک حکومت کے خاتمے کے لیے 2011 میں آمریت سے نجات پانے اور ملک میں جمہوریت لانے کے لیے سڑکوں پر احتجاج کناں تھے۔

مغربی ذرائع ابلاغ نے اس احتجاج کو عرب بہاریہ کا نام دیا تھا اور بالآخر مصری عوام حسنی مبارک کے طویل اقتدار کا خاتمہ کرنے میں کامیاب ہو گئے تھے۔

مصری عدالت میں سڑکوں پر مارے جانے والے ان جمہوریت پسند مظاہرین کے مقدمہ قتل کی ایک طویل سماعت کے بعد عملا ماہ ستمبر میں فیصلہ محفوظ کر لیا اور عدالتی بنچ کے سربراہ نے اعلان کیا تھا کہ اس بارے میں عدالتی فیصلہ 29 نومبر کو سنایا جائے گا۔

آج صبح سے مذکورہ عدالت کے باہر ہلاک کیے گئے مصری مظاہرین کے اہل خانہ اور ورثاء بڑی تعداد میں جمع ہو گئے تھے۔ اسی طرح حسنی مبارک کے حامی بھی عدالت کے باہر جمع تھے۔

واضح رہے یہ عدالت سکیورٹی کی صورت حال کے پیش نظر پولیس اکیڈمی میں قائم کی گئی ہے۔ آج صبح اس مقدمے کے امکانی طور پر فیصلے کے پیش نظر 86 حسنی مبارک کو فوجی ہسپتال سے ہیلی کاپٹر پر عدالت میں لایا گیا ۔ اس موقع پر سخت حفاظتی انتظامات کیے گئے تھے۔

عدالت کی طرف سے مقدمے کا فیصلہ سامنے آیا تو اس میں حسنی مبارک کو مقدمے سے باعزت بری کر دیا گیا ہے۔ مصر میں حسنی مبارک کے حامیوں کو اس سے کافی ریلیف کا احساس ملے گا۔ البتہ سیکڑوں مقتولین کے اہل خانہ کو سخت مایوسی کا سامنا کرنا پڑا۔