.

عراق: 50 ہزار گھوسٹ فوجیوں کا انکشاف

وزیراعظم کا بدعنوانیوں کے خلاف کریک ڈاؤن کا دائرہ کار بڑھانے کا اعلان

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

عراق کے وزیراعظم حیدر العبادی نے تحقیقات کے نتیجے میں فوج میں پچاس ہزار گھوسٹ فوجیوں کی فہرست کا پتا چلانے کا انکشاف کیا ہے اور ملک بھر میں بدعنوانیوں کے خلاف کریک ڈاؤن کا دائرہ کار بڑھانے کا اعلان کیا ہے۔

عراقی وزیراعظم کے دفتر کی جانب سے اتوار کو جاری کردہ ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ''ملٹری اسٹیبلشمنٹ میں اصلاحات کے تحت وزیراعظم حیدرالعبادی نے چار ملٹری یونٹوں میں قریباً پچاس ہزار جعلی ناموں کا پتا چلایا ہے''۔

انھوں نے بیان میں عراقی علاقے میں غیرملکی فورسز کی موجودگی کی بھی تردید کی ہے اور کہا ہے کہ صرف فوجی تربیت کے مقاصد کے لیے غیر ملکی موجود ہیں۔عراقی پارلیمان کے ایک بیان میں بتایا گیا ہے کہ وزیراعظم حیدر العبادی نے فوج میں چار مکمل ڈویژن کے برابر پچاس ہزار اسامیاں ختم کردی ہیں۔

حیدرالعبادی کے ترجمان رفید جبوری نے ایک بیان میں بتایا ہے کہ ''گذشتہ چند ہفتوں کے دوران وزیراعظم نے گھوسٹ فوجیوں کا پتا چلانے کے لیے کریک ڈاؤن کیا ہے اور وہ مسئلے کی جڑ تک پہنچ گئے ہیں''۔ انھوں نے مزید بتایا ہے کہ تن خواہوں کے عمل کے دوران فوجیوں کی گنتی کی گئی ہے۔

بعض فوجیوں نے فرانسیسی خبررساں ادارے اے ایف پی سے گفتگو کرتے ہوئے اس بات کی تصدیق کی ہے کہ انھیں دوماہ کی تاخیر کے بعد حال ہی میں تن خواہیں ادا کی گئی ہیں اور انھیں اس کی کوئی وضاحت بھی نہیں کی گئی ہے۔

عراقی سکیورٹی فورسز کے ایک تجربے کار افسر کا کہنا ہے کہ ''اس وقت عراقی فوج میں دو قسم کے ''فیض یافتگان'' ہیں۔ان میں پہلی قسم ان محافظوں کی ہے جو ہر افسر کو رکھنے کی اجازت ہے۔وہ دو محافظوں کو اپنے ساتھ رکھتا ہے اور تین کو گھر بھیج دیتا ہے مگر ان کی تن خواہ اپنی جیب میں ڈال لیتا ہے یا ایک خاص شرح سے رقم ان محافظوں کو دیتا ہے اور باقی خود استعمال کرتا ہے''۔

انھوں نے مزید بتایاکہ ''اس کے بعد بریگیڈ کی سطح پر دوسرا اور بڑا گروپ ہے۔ایک بریگیڈ کمانڈر کے تحت تیس ،چالیس یا اس سے زیادہ فوجی ہوتے ہیں۔وہ یا تو گھروں میں رہتے ہیں یا پھر ان کا کوئی وجود ہی نہیں ہے لیکن مسئلہ یہ ہے کہ بریگیڈ کمانڈر اپنی ملازمت پر برقرار رہنے کے لیے اپنے بالائی افسروں کو بھی بھاری رقم رشوت میں دیتا ہے''۔

واضح رہے کہ امریکا نے 2003ء سے 2011ء تک عراق پر قبضے کے دوران فوج کی ازسرنو تشکیل نو کے لیے اربوں ڈالرز صرف کیے تھے لیکن سابق وزیراعظم نوری المالکی نے اپنے دور حکومت میں فوج کو فرقہ وارانہ بنیاد پر استوار کرنے کی کوشش کی تھی اور اس کی پیشہ ورانہ صلاحیت اور اہلیت کی جانب کوئی توجہ نہیں دی تھی۔

یہی وجہ ہے کہ جب جون 2014ء میں سخت گیر جنگجو گروپ دولت اسلامی عراق وشام (داعش) کے جنگجوؤں نے شمالی شہروں میں یلغار کی تو عراقی فوج ان کا مقابلہ کرنے کے بجائے تتر بتر ہوگئی تھی اور ہزاروں فوجی اپنا ہلکا اور بھاری اسلحہ اور وردیاں تک چھوڑ کر بھاگ گئے تھے اور داعش نے چند دنوں ہی میں عراق کے پانچ شمالی اور شمال مغربی صوبوں کے بیشتر علاقوں پر قبضہ کر لیا تھا۔