عرب لیگ کا سلامتی کونسل میں فلسطینی ریاست کی حمایت کا اعلان

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
4 منٹس read

عرب لیگ نے سلامتی کونسل میں آزاد فلسطینی ریاست کے قیام کے حوالے سے پیش کی جانے والی مجوزہ قرارداد کی مکمل حمایت کا اعلان کیا ہے۔

گذشتہ روز قاہرہ میں عرب لیگ کے وزرائے خارجہ اجلاس کے اختتام پر جاری ایک مشترکہ بیان میں کہا گیا ہے کہ تمام عرب ممالک سلامتی کونسل میں آزاد فلسطینی ریاست کے قیام کے حوالے سے کی جانے والی مساعی کی حمایت کرتے ہیں۔ آزاد اور مکمل خود مختار فلسطینی ریاست کا قیام اورعرب شہروں سے اسرائیل کے ناجائزقبضے کا خاتمہ عرب لیگ کا بھی دیرینہ مطالبہ ہے۔

خیال رہے کہ کل ہفتے کے روز مصرکے صدر مقام قاہرہ میں عرب لیگ کے وزرائے خارجہ کا اجلاس ہوا جس میں فلسطینی اتھارٹی کے سربراہ محمود عباس اور عرب لیگ کے سیکرٹری جنرل ڈاکٹر نبیل العربی بھی موجود تھے۔ اجلاس میں فلسطینی اتھارٹی کی جانب سے آزاد فلسطینی ریاست کےقیام کے لیے ٹائم فریم کی تجویز سے اتفاق کیا گیا اور شرکاء نے اقوام متحدہ کی عالمی سلامتی کونسل میں فلسطینی ریاست کی حمایت میں رائے شماری کا مطالبہ کیا۔

اجلاس میں طے کیا گیا کہ فلسطینی ریاست کی سلامتی کونسل میں زیادہ سے زیادہ حمایت کے حصول کے لیے عرب ممالک کی وزارتی سطح کی کمیٹی تشکیل دی جائے گی جس میں اردن، موری تانیہ اور کویت کے وزراء شامل کیے جائیں گے۔ یہ کمیٹی عالمی برادری اور مسلمان ممالک سے رابطے کرکے فلسطینی ریاست کی حمایت کے لیے انہیں قائل کرے گی۔

تاہم بیان میں یہ واضح نہیں کیا گیا کہ آیا فلسطینی اتھارٹی یا عرب لیگ کی جانب سے سلامتی کونسل میں یہ قرارداد کب پیش کی جائے گی۔ عرب لیگ کے ایک سفارتی ذریعے کا کہنا ہے کہ چونکہ اردن سلامتی کونسل کا واحد عرب رکن ملک ہے اور وہی سلامتی کونسل میں پیش آئند ایام میں فلسطینی ریاست کے حوالے سے قرارداد پیش کرے گا۔

قبل ازیں اکتوبر میں فلسطینی اتھارٹی کی جانب سے بعض عرب ممالک اور سلامتی کونسل کے کچھ رکن ممالک کو ایک مسودہ قرارداد ارسال کیا تھا جس میں کہا گیا تھا کہ فلسطینی ریاست کے قیام کے لیے نومبر2016ء کی ڈیڈ لائن دی جائے گی۔ ابھی تک اس قراراداد کا مسودہ باضابطہ طورپرسلامتی کونسل کے رکن ملکوں میں تقسیم نہیں کیا گیا ہے۔ اس لیے کسی رکن ملک کی جانب اس پرکارروائی کے حوالے سے کوئی رد عمل سامنے نہیں آسکا۔

عرب ممالک کی جانب سے پہلے بھی آزاد فلسطینی ریاست کے قیام کے لیے فلسطینی اتھارٹی کے سلامتی کونسل کے رجوع کے فیصلے کی تائید وحمایت کی جاتی رہی ہے۔ عرب ممالک صدر عباس کے اس موقف کی حمایت کرتے ہیں کہ فلسطینی ریاست کے قیام کے لیے اب کوئی ٹائم فریم دیا جانا چاہیے۔

گذشتہ روز قاہرہ میں عرب لیگ کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے صدرمحمود عباس نے کہا کہ سلامتی کونسل میں پیش کیے جانے سےقبل مجوزہ قرارداد پر عرب ممالک میں بھی غووخوض کیا جائے گا۔

اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے عرب لیگ کے سیکرٹری جنرل ڈاکٹر نبیل العربی نے کہا کہ قرارداد کے مسودے کو حتمی شکل دیے جانے کے بعد اسے جلد از جلد سلامتی کونسل میں رائے شماری کے لیے پیش کیا جائے گا۔

خیال رہے کہ فلسطینی اتھارٹی سنہ 1967ء کی جنگ میں اسرائیل کے قبضے میں چلے گئے فلسطینی علاقوں پرمشتمل ایک آزاد اور خود مختار ریاست کے قیام کا مطالبہ کررہی ہے۔ اس میں مشرقی بیت المقدس کو خصوصی اہمیت دی جا رہی ہے اور مطالبہ یہ ہے کہ مشرقی بیت المقدس مجوزہ فلسطینی ریاست کا دارالحکومت ہوگا۔

دوسری جانب اسرائیل مشرق وسطیٰ میں دو ریاستی حل کوتو قبول کرتا ہے مگر اس کا کہنا ہے کہ فلسطینی ریاست کےقیام کے لیے سنہ 1967ء کی جنگ سے پہلے والی پوزیشن پرواپسی کی شرائط قابل قبول نہیں ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں