مصر: مبارک مخالف مظاہرے ،ایک اور شخص ہلاک

قاہرہ عدالت سے حسنی مبارک کی بریّت کے خلاف مصریوں کا احتجاج

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

مصر کے دارالحکومت قاہرہ میں پولیس اور مظاہرین کے درمیان جھڑپوں میں اتوار کو ایک اور شخص ہلاک ہوگیا ہے جس کے بعد ہفتے کے روز سے جاری مظاہروں میں مرنے والے افراد کی تعداد دو ہوگئی ہے۔

مصر کے سابق مطلق العنان صدر حسنی مبارک کو مظاہرین کی ہلاکتوں کے مقدمے میں بری کیے جانے کے خلاف لوگ مظاہرے کررہے ہیں۔گذشتہ روز قاہرہ کی ایک عدالت نے حسنی مبارک کو 2011ء کے اوائل میں ان کی حکومت کے خلاف مظاہروں کے دوران قریباً ساڑھے آٹھ سو افراد کی ہلاکتوں کے مقدمے سے بری کردیا تھا۔

عدالت کے اس فیصلے کے خلاف لوگ قاہرہ میں سڑکوں پر نکل آئے تھے اور وہ مشہور میدان التحریر کے نزدیک واقع عبدالمنعم ریاض اسکوائر میں احتجاجی مظاہرہ کر رہے ہیں۔مصری پولیس کے ترجمان حسام عبدالغفار نے بتایا ہے کہ جھڑپوں میں نو افراد زخمی ہوگئے ہیں۔

مصری پولیس نے عدالتی فیصلے کے خلاف احتجاج کرنے والے ایک ہزار سے زیادہ مظاہرین کو منتشر کرنے کے لیے اشک آور گیس کے گولے پھینکے ہیں۔پولیس نے مظاہرین کے خلاف واٹر کینن کا بھی استعمال کیا ہے اور میدان التحریر کے نزدیک واقع شاہراہوں پر مظاہرین کا پیچھا کیا اور بیس مظاہرین کو گرفتار کرلیا ہے۔

قاہرہ کی فوجداری عدالت نے گذشتہ روز سابق صدر کے علاوہ سابق وزیرداخلہ اور سکیورٹی چیفس کو بھی مظاہرین کی ہلاکتوں کے مقدمے میں بری کردیا ہے۔سابق صدر کے وکیل فرید الدیب نے کہا ہے کہ عدالت کے فیصلے کے بعد اب ان کے موکل کو فوجی اسپتال سے قبل از وقت رہا کیا جاسکتا ہے۔وہ اس وقت معدی اسپتال میں زیر علاج ہیں اور زیر حراست بھی ہیں۔

واضح رہے کہ مصر کی ایک اور عدالت نے حسنی مبارک ،ان کے دونوں بیٹوں علاء اور جمال مبارک اور کاروباری شخصیت حسین سالم کو اسرائیل کو مارکیٹ سے کم قیمت پر قدرتی گیس برآمد کرنے سے متعلق الزامات پر قائم مقدمے سے بری کردیا تھا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں