معاشی ترغیبات،فلسطینیوں کے انخلاء کی نئی صہیونی سازش بے نقاب

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
4 منٹس read

اسرائیل مختلف سازشوں کےتحت سنہ 1948ء کی جنگ میں قبضے میں لیےگئے علاقوں کے عرب باشندوں کو وہاں سے نکالنے کے لیے کوشاں ہے۔ کبھی ان کے مکانات مسمار کرکے انہیں وہاں سے نکل جانے پرمجبور کیا جاتا ہے اور کبھی لالچ اور معاشی ترغیبات کے ذریعے عرب باشندوں کی نقل مکانی کی راہ ہموار کی جاتی ہے۔

اس سلسلے میں اسرائیلی وزیر خارجہ آوی گیڈور لائبرمین کی ایک تازہ اسکیم سامنے آئی ہے جس میں انہوں نے تجویز دی ہے کہ سنہ 1948ء کے فلسطینی علاقوں میں مقیم عرب شہریوں کو معاشی ترغیبات کے ذریعے وہاں سے نکالا جاسکتا ہے۔

جمعہ کے روز انہوں نے تجویز پیش کی کہ ’’اقتصادی ترغیبات‘‘ فلسطینی عرب باشندوں کو مستقبل میں قائم ہونے والی فلسطینی ریاست میں منتقل ہونے کا ایک اہم راستہ ثابت ہوسکتی ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ فلسطینیوں کو یہ بتایا جائے کہ مجوزہ فلسطینی ریاست میں ان کا مستقبل روشن ہے۔ اس لیے بہتر ہے کہ وہ آج ہی سے ان علاقوں میں منتقل ہونا شروع ہوجائیں جہاں ممکنہ طورپر فلسطینی ریاست قائم کی جائے گی۔

شدت پسند صہیونی سیاسی جماعت’’اسرائیل بیتنا‘‘ کے رہ نما نے کہا کہ وہ فلسطینی عرب جو اپنی اسرائیلی شہریت کے خاتمے اور فلسطینی ریاست میں شامل ہونے کے بعد فلسطینی شہریت کے حصول کے خواہاں ہیں وہ اپنی مرضی کے مطابق کسی دوسرے فلسطینی علاقے میں منتقل ہوسکتئےہیں۔ اسرائیل اس باب ان کی مکمل حوصلہ افزائی کے ساتھ ان کی مالی معاونت کے لیے بھی تیار ہے۔

لائبرمین کی اسکیم میں کہا گیا ہے کہ مشرق وسطیٰ میں دیرپا قیام امن کی اس وقت تک ضمانت نہیں دی جاسکتی جب تک تمام عرب ممالک اور اسرائیل کے درمیان امن سمجھوتہ طے نہیں پاجاتا۔ انہوں نے کہا کہ فلسطینیوں سے امن کے ساتھ رہنے کے لیے اراضی اور آبادی دونوں کا تبادلہ ضروری ہے۔

لائبرمین کا مزید کہنا ہے کہ علاقائی امن وسلامتی کے لیے یہودیوں اور عرب شہریوں کے درمیان ایک مناسب فاصلے کا ہونا ضروری ہے۔ یہ تب ہی ممکن ہے کہ فلسطین اور اسرائیل اراضی کے ساتھ ساتھ آبادی کا بھی تبادلہ کریں۔ جو عرب شہری اسرائیل کے ساتھ وفاداری نہیں نبھا سکتے ہیں وہ اسرائیلی شہریت ختم کرالیں۔ خیال رہے کہ اسرائیلی وزیرخارجہ نے ایک ماہ قبل عرب کمیونٹی سے منتخب اسرائیلی پارلیمنٹ کےارکان سے کہا تھا کہ وہ اسرائیل کےسیاسی نظام سے نکل جائیں۔

فلسطینی عرب شہریوں کو اسرائیل سے نکال باہرکرنے میں صرف لائبرمین ہی سرگرم نہیں بلکہ ان کی جماعت اور کئی دوسرے گروپ پچھلے کئی سال سے پارلیمنٹ میں عرب شہریوں کی اسرائیلی شہریت کے خاتمے کے لیے قانون سازی کی کوشش کررہے ہیں۔ انہی کی کوششوں کے نتیجے میں عرب اقلیت کو بنیادی حقوق سے محروم کیا گیا ہے۔ لائبرمین کی جماعت نے مطالبہ کیاہے کہ جو فلسطینی عرب اسرائیلی فوج میں خدمات انجام نہیں دینا چاہتے ان کی اسرائیلی شہریت بھی ختم کردی جانی چاہیے کیونکہ وہ اسرائیل میں رہنے کے لائق نہیں ہیں۔

عرب شہریوں کی مبینہ بے دخلی کی تازہ سازش ایک ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب ایک ہفتہ قبل اسرائیلی کابینہ نے اسرائیل کو یہودیوں کاقومی وطن قرار دینے کے ایک متنازعہ قانون کی منظوری دی ہے۔

یہاں یہ امر واضح رہے کہ اسرائیل میں فلسطینی عرب شہریون کی تعداد 17 لاکھ کے لگ بھگ ہے جواسرائیل کی کل آبادی کا 20فی صد ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں