.

کوبانی: حملوں ،جھڑپوں میں داعش کے 50 جنگجو ہلاک

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

شام کے سرحدی شہر کوبانی (عین العرب) میں گذشتہ چوبیس گھنٹے کے دوران کرد جنگجوؤں کے ساتھ جھڑپوں ،خود کش بم دھماکوں اور امریکی اتحادیوں کے فضائی حملوں میں داعش کے کم سے کم پچاس جنگجو ہلاک ہوگئے ہیں۔

برطانیہ میں قائم شامی آبزرویٹری برائے انسانی حقوق نے اتوار کو اطلاع دی ہے کہ ستمبر میں ترکی کی سرحد کے نزدیک واقع کرد اکثریتی شہر پر چڑھائی کے بعد سے داعش کا ایک دن میں یہ سب سے زیادہ جانی نقصان ہے۔

آبزرویٹری نے مزید بتایا ہے کہ امریکا کی قیادت میں اتحادی طیاروں نے ہفتے کے روز شام کے شمالی صوبے الرقہ میں بھی داعش کے ٹھکانوں پر کم سے کم تیس فضائی حملے کیے تھے۔اتحادی طیاروں نے الرقہ شہر کے شمال میں واقع نواحی علاقوں میں داعش کے ٹھکانوں کو نشانہ بنایا تھا۔ان اہداف میں شامی فوج کے سترھویں ڈویژن کا علاقہ بھی شامل ہے جس پر داعش نے جولائی میں قبضہ کر لیا تھا۔

ادھر شام کے دوسرے بڑے شہر حلب میں شامی فوج اور باغی جنگجوؤں کے درمیان لڑائی جاری ہے۔آبزرویٹری کی اطلاع کے مطابق حلب کے حکومت کے کنٹرول والے مغربی علاقے اشرفیہ میں باغیوں کی گولہ باری سے ایک خاتون اور اس کے تین بچے مارے گئے ہیں۔باغی جنگجو شامی فوج کے زیر قبضہ علاقوں میں دیسی ساختہ مارٹر گولے فائر کررہے ہیں اور یہ گیس کے کنستروں سے بنائے گئے ہیں۔ ان سے عام مارٹر گولوں کی نسبت زیادہ تباہی ہورہی ہے۔

شامی فضائیہ جنگی طیاروں سے باغیوں کے ٹھکانوں اور ان کے زیر قبضہ حلب کے مشرقی علاقے کی جانب بیرل بم برسا رہی ہے جس کے نتیجے میں 2013ء کے بعد سے ہزاروں افراد مارے جاچکے ہیں۔اقوام متحدہ ،امریکا اور انسانی حقوق کی عالمی تنظیموں نے شامی فوج کی جانب سے شہریوں پر بیرل بموں کے حملوں کی مذمت کی تھی۔