.

عراق : وزارت داخلہ کے 24 افسر جبری ریٹائر

وزیراعظم عبادی نے بدعنوانیوں کے خلاف تحقیقات کا دائرہ کار بڑھا دیا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

عراق کے وزیراعظم حیدر العبادی نے وزارت داخلہ کے چوبیس اعلیٰ افسروں کو بدعنوانیوں اور فرائض سے غفلت کے الزام میں جبری ریٹائر کردیا ہے۔

حیدرالعبادی کے ٹویٹر اکاؤنٹ پر جاری کردہ ایک مختصر بیان میں کہا گیا ہے کہ وزارت داخلہ کے ان عہدے داروں کو ریٹائر کرنے کا اقدام عراق کے سکیورٹی اداروں میں اصلاحات اور تعمیرنو کے لیے کوششوں کے ضمن میں کیا گیا ہے۔

ڈاکٹر عبادی ستمبر میں وزارتِ عظمیٰ کا منصب سنبھالنے کے بعد سے اب تک متعدد اعلیٰ فوجی کمانڈروں کو بدعنوانیوں اور دوسرے الزامات کے تحت برطرف کرچکے ہیں یا جبری ریٹائر کرچکے ہیں۔وہ اپنے پیش رو وزیراعظم نوری المالکی کے برعکس عراق کے اہل سنت اور اہل تشیع کو اکٹھا کرنے کے لیے بھی کوشاں ہیں۔

انھوں نے اتوار کو تحقیقات کے نتیجے میں فوج میں پچاس ہزار گھوسٹ فوجیوں کی فہرست کا پتا چلانے کا انکشاف کیا تھا اور کہا تھا کہ وہ ملک بھر میں بدعنوانیوں کے خلاف کریک ڈاؤن کے دائرہ کار کو بڑھا رہے ہیں۔

حیدرالعبادی کے ترجمان رفید جبوری نے ایک بیان میں کہا کہ ''گذشتہ چند ہفتوں کے دوران وزیراعظم نے گھوسٹ فوجیوں کا پتا چلانے کے لیے کریک ڈاؤن کیا ہے اور وہ مسئلے کی جڑ تک پہنچ گئے ہیں''۔ انھوں نے مزید بتایا ہے کہ تن خواہوں کے عمل کے دوران فوجیوں کی گنتی کی گئی تھی اور گھوسٹ فوجیوں کی اسامیوں کو ختم کردیا گیا ہے۔