.

مصر: سیناء میں امریکی پیٹرولیم ایکسپرٹ قتل

انصار بیت المقدس نے قتل کی ذمہ داری قبول کر لی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

مصر میں سرگرم انصار بیت المقدس نامی قدرے غیر معروف عسکری تنظیم نے ملک کے مغربی صحراء میں تیل کی تلاش کے منصوبوں پر کام کرنے والے پیٹرولیم کے ماہر ایک امریکی سائنسدان ولیم ہنڈرسن کے قتل کی ذمہ داری قبول کر لی ہے۔ تنظیم نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ 'ٹویٹر' کے ذریعے اس حملے کی ذمہ داری قبول کرنے کا اعلان کیا ہے۔

آنجہانی ہنڈرسن کو اسی سال چھے اگست کو اس وقت ہلاک کیا گیا جب وہ مغربی صحراء میں اپنی ڈیوٹی کے سلسلے میں گاڑی پر دفتر جا رہے تھے۔ امریکی حکام نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر ولیم کی ہلاکت کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ مقتول 'آپاچی' نامی امریکی کمپنی میں پیٹرولیم کے ماہر تھے۔

اپاچی کمپنی کے ترجمان نے ایک بیان میں واضح کیا ہنڈرسن کمپنی کے پروکشن ڈویژن میں طویل عرصے سے خدمات سرانجام دے رہے تھے۔ وہ قاہرہ کے جنوب مغرب میں اپنی گاڑی پر اپاچی کمپنی کی پارٹنر مصری پیٹرولیم کمپنی 'قارون' کے دفتر سے نخلستان کے علاقے 'کرامہ' میں سفر کر رہے تھے، جب انصار بیت المقدس کے جنگجووں نے انہیں اغوا کیا۔

حکام کے مطابق ولیم کی لاش ایک دوسرے غیر ملکی کے ہمراہ قاہرہ سے باہر گاڑی سے ملی، دوسری ملہوک کی شہریت معلوم نہیں ہو سکی تاہم وہ بھی مصری پیڑولیم کمپنی 'قارون' میں ملازم تھا۔