.

مصر: حسنی مبارک کی بریت کے خلاف اپیل دائر

عدالتی فیصلے میں قانونی سقم موجود ہیں: پبلک پراسیکیوٹر

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

مصر کے پبلک پراسیکیوٹر نے سابق صدر حسنی مبارک ،ان کے وزیر داخلہ اور چھے معاونین کی مظاہرین کی ہلاکتوں کے مقدمے میں بریت سے متعلق عدالتی حکم کے خلاف اعلیٰ عدالت میں اپیل دائر کر دی ہے۔

پبلک پراسیکیوٹر ہشام برکات نے منگل کو ایک بیان میں کہا ہے کہ ''عدالتی فیصلے کے جائزے کے بعد اس میں قانونی اسقام کا پتا چلا ہے،اس لیے اس کے خلاف اپیل دائر کی گئی ہے''۔

اب مصر کی اپیل کورٹ پراسیکیوٹر کی قاہرہ عدالت کے حکم پر نظرثانی کی اس درخواست کو قبول یا رد کرنے کا فیصلہ کرے گی۔اگر وہ اس کو قبول کر لیتی ہے تو پھر وہ حسنی مبارک اور ان کے معاونین کے خلاف مظاہرین کی ہلاکتوں کے مقدمے کی ازسرنو سماعت کا حکم دے سکتی ہے۔

مصر کی ایک خصوصی عدالت نے 2012ء میں چھیاسی سالہ حسنی مبارک کو دو سوانتالیس مظاہرین کی ہلاکتوں کی سازش میں ملوث ہونے کے الزام میں قصور وار قرار دے کر عمر قید کی سزا سنائی تھی لیکن بعد میں ایک اپیل عدالت نے ان کی نظرثانی کی اپیل پر ان کے خلاف مظاہرین کی ہلاکتوں کے مقدمے کی دوبارہ سماعت کا حکم دیا تھا۔

قاہرہ کی فوجداری عدالت نے ہفتے کے روز حسنی مبارک کے خلاف اس کیس کو سرے سے ختم کرنے کا حکم دیا تھا اور ان کے سابق وزیرداخلہ حبیب العدلی اور چھے سکیورٹی کمانڈروں کو بھی 25 جنوری 2011ء کو قاہرہ میں حکومت مخالف احتجاج کے دوران پولیس سے جھڑپوں میں مظاہرین کی ہلاکتوں کے مقدمے میں بری کردیا تھا۔

عدالت کے اس فیصلے کے خلاف قاہرہ میں پُرتشدد مظاہرے شروع ہوگئے تھے جن میں دو افراد ہلاک اور متعدد زخمی ہوگئے تھے۔سابق صدر کے وکیل فرید الدیب کا کہنا ہے کہ عدالت کے فیصلے کے بعد اب ان کے موکل کو فوجی اسپتال سے قبل از وقت رہا کیا جاسکتا ہے کیونکہ وہ دو تہائی قید بھگت چکے ہیں اور نئے قانون کے تحت ان کی رہائی ممکن ہے۔علیل حسنی مبارک اس وقت فوج کے زیرانتظام معدی اسپتال میں زیرعلاج اور زیر حراست ہیں۔

واضح رہے کہ مصر کی ایک اور عدالت نے حسنی مبارک ،ان کے دونوں بیٹوں علاء اور جمال مبارک اور کاروباری شخصیت حسین سالم کو اسرائیل کو مارکیٹ سے کم قیمت پر قدرتی گیس برآمد کرنے سے متعلق الزامات پر قائم مقدمے میں بری کردیا تھا۔