.

مصر:پولیس پر حملہ، 185 افراد کو سزائے موت کا حکم

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

مصر کی ایک عدالت نے 2013ء میں پولیس پر حملے کے الزامات میں ایک سو پچاسی افراد کو قصور وار قرار دے کر سزائے موت کا حکم دیا ہے۔

استغاثہ کے مطابق یہ تمام افراد 2013ء میں کرادسہ کے مقام پر پولیس اہلکاروں کی ہلاکتوں میں ملوث تھے۔ان پر دہشت گردی ،قتل ،سرکاری املاک کو نقصان پہنچانے اور ہتھیار رکھنے کے الزام میں فرد جرم عاید کی گئی تھی اور انھوں نے گذشتہ سال جولائی میں منتخب صدر ڈاکٹر محمدمرسی کی مسلح افواج کے سربراہ عبدالفتاح السیسی کے ہاتھوں برطرفی کے بعد تشدد کا ارتکاب کیا تھا۔

ان تمام مدعاعلیہان نے جیزہ گورنری میں واقع قصبے کرادسہ میں سکیورٹی فورسز کی جنگجوؤں کے ایک ٹھکانے پر چھاپہ مار کارروائی کے بعد پولیس اسٹیشن پر جوابی حملہ کردیا تھا جس کے نتیجے میں جیزہ کے ڈپٹی سکیورٹی ہیڈ میجر جنرل نبیل فراج مارے گئے تھے۔

مدعا علیہان پر سکیورٹی اہلکاروں کو ہلاک کرنے کے لیے ایک دہشت گرد گروہ کی تشکیل کا بھی الزام عاید کیا گیا تھا۔اس کے علاوہ ان پر دہشت گردی کے لیے رقوم اکٹھا کرنے ،غیر قانونی گروپ کی تشکیل اور اسلحہ رکھنے کے الزامات میں فرد جرم عاید کی گئی تھی۔مصری قانون کے تحت مدعاعلیہان کو ان سزاؤں کے خلاف اپیل کا حق حاصل ہے اور عدالتی فیصلے کو توثیق کے لیے ملک کے مفتی کے پاس بھی بھیجا جائے گا۔پھر اس پر عمل درآمد کیا جائے گا۔

واضح رہے کہ ڈاکٹر محمد مرسی کی برطرفی کے بعد احتجاج کے دوران مسلح افراد نے کرادسہ پولیس اسٹیشن پر حملہ کیا تھا جس کے نتیجے میں میجر جنرل نبیل فراج ہلاک اور دس اہلکار زخمی ہوگئے تھے۔یہ واقعہ جیزہ اور قاہرہ میں ڈاکٹر مرسی کے حامیوں کے دو دھرنوں کے خلاف سکیورٹی فورسز کے خونیں کریک ڈاؤن کے بعد پیش آیا تھا۔

واضح رہے کہ مارچ 2014ء میں مصر کی ایک عدالت نے ڈاکٹر مرسی کے 529 حامیوں کو ایک پولیس افسر کو قتل کرنے کے الزام میں سزائے موت سنائی تھی لیکن بعد میں عدالت نے ان میں سے سینتیس افراد کی پھانسی کی سزا بحال رکھی تھی اور باقی افراد کی سزا کم کرکے عمر قید میں تبدیل کردی تھی۔

اس کے ایک ماہ کے بعد اپریل میں عدالت نے ڈاکٹر مرسی کے 683 حامیوں کو ایک پولیس اسٹیشن پر حملے اور ایک پولیس افسر کو قتل کرنے کے الزام میں قصور وار قرار دے کر سزائے موت سنائی تھی۔اخوان المسلمون کے حامیوں اور کارکنان کو اس طرح تھوک کے حساب سے سنائی گئی پھانسیوں کی سزاؤں پر انسانی حقوق کی عالمی تنظیموں نے تنقید کی ہے اور عدالتی فیصلوں پر نظرثانی کا مطالبہ کیا ہے۔

مصری سکیورٹی فورسز نے اگست 2013ء کے بعد کریک ڈاؤن کارروائیوں کے دوران ملک کی سب سے منظم دینی وسیاسی جماعت اخوان المسلمون کی مرکزی قیادت سمیت ہزاروں کارکنوں کو گرفتار کرکے جیلوں میں ڈال دیا ہے۔ان میں سے ایک ہزار سے زیادہ کو سزائے موت کا حکم دیا گیا ہے اور ہزاروں کو ایک سال سے تاعمرجیل کی سزائیں سنائی گئی ہیں۔ان سزاؤں پر امریکا سمیت مغربی ممالک اور انسانی حقوق کی تنظیمیں گہری تشویش کا اظہار کرچکی ہیں۔