.

یہودی خاتون جنگجو داعش کے ہاتھ نہیں آئی: کرد حکام

کینیڈا سے تعلق رکھنے والی روزن برگ سابق اسرائیلی فوجی ہے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ایک کرد سرکاری ذمہ دار نے اس بات کی تردید کی ہے کہ اسرائیل کی سابق خاتون فوجی اور کینیڈین یہودی جنگجو روزن برگ کو داعش نے گرفتار کر لیا ہے۔

کرد ذمہ دار کے مطابق اس نے 31 سالہ یہودی جنگجو روزن برگ کے فیس بک پیج پر لکھا دیکھا ہے کہ '' میں مکمل طور پر محفوظ ہوں۔''

کینیڈین یہودی روزن برگ نے 2006 میں اسرائیلی فوج میں شمولیت کی۔ وہ ایک سول ایویاشن پائلٹ ہے لیکن 2009 میں فراڈ کے الزامات کے باعث اس کی فوجی ملازمت ختم کرنا پڑی تھی۔

اب ماہ نومبر میں روزن برگ نے داعش کے خلاف جنگ میں حصہ لینے کے لیے کردوں کی ملیشیا کا حصہ بننے کا فیصلہ کیا تھا۔

کرد ملیشیا شمالی شام میں ایک اہم قوت ہے۔ کرد ملیشیا کے کوبانی میں موجود ایک مقامی ذمہ دار ادریس ناسان نے بتایا '' روزن برگ ہماری ملیشیا میں پہلی غیر ملکی خاتون جنگجو ہے۔'' کوبانی سے کرد ملیشیا کے حکام کا کہنا ہے کہ اسے داعش نے گرفتار نہیں کیا ہے۔

روزن برگ نے پیر کے روز اپنے فیس بک پیج پر لکھا ''میری سلامتی کے تقاضے کے تحت میرے پاس انٹرنیٹ یا رابطے کی کوئی دوسری سہولت نہیں ہے، میں ان اطلاعات کو نظر انداز کرتی ہوں کہ مجھے گرفتار کر لیا گیا ہے۔''

دوسری جانب اسرائیلی ذرائع ابلاغ نے اتوار کے روز رپورٹ کیا تھا کہ'' روزن برگ گرفتار ہو گئی ہے۔'' جبکہ کینیڈا نے ان طلاعات پر کہا ہے کہ وہ حقائق تک پہنچنے کی کوشش کر رہا ہے۔

کینیڈا کے وزیر خارجہ جان بئیرڈ نے اس بارے میں کہا ہے '' یقینا ہمارے شام میں معلومات تک پہنچنے کی صلاحیت محدود ہے، اسی لیے ہم نے شام جانے سے پہلے ہی اپنے شہریوں کو روکنے کے لیے انتباہ جاری کر رکھے ہیں۔''