.

شام میں ہلاکتیں دو لاکھ سے تجاوز کر گئیں: آبزرویٹری

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

شام میں گزشتہ تقریباً چار برس سے جاری خانہ جنگی کے نتیجے میں ہلاکتوں کی تعداد دو لاکھ سے تجاوز کر گئی ہے۔ شامی آبزرویٹری کے مطابق ہلاک ہونے والوں میں سے بیشتر مخالف دھڑوں کے جنگجو تھے۔

ہلاکتوں کی یہ تعداد لندن سے شام کی صورتحال پر نظر رکھنے والی انسانی حقوق سے متعلق ایک شامی آبزرویٹری نے جاری کی ہیں۔ آبزرویٹری کے نگران رامی عبدالرحمان کا کہنا ہے: ’’ہم نے مارچ 2011ء سے اب تک دو لاکھ دوہزار تین سو چووّن ہلاکتیں ریکارڈ کی ہیں۔‘‘

انہوں نے بتایا کہ اس میں سے ایک لاکھ تیس ہزار سے زائد افراد لڑائی کا حصہ تھے۔ رامی عبدالرحمان کا مزید کہنا تھا: ’’مجموعی تعداد میں سے تریسٹھ ہزار چوہتر عام شہری تھے جن میں دس ہزار تین سو 77 بچے تھے۔‘‘

شامی آبزرویٹری کے سربراہ نے کہا: ’’حکومت کے خلاف لڑنے والے سینتیس ہزار تین سو چوبیس فائٹر شامی باغی تھے جب کہ بائیس ہزار چھ سو چوبیس غیر شامی جہادی تھے۔‘‘

انہوں نے کہا: ’’حکومت کی طرف سے لڑ کر مارے جانے والوں میں چوالیس ہزار دو سو سینتیس فوجی، اٹھائیس ہزار نو سو چوہتر نیشنل ڈیفنس فورس کے اہلکار، چھ سو چوبیس لبنان کی شیعہ ملشیا حزب اللہ کے ارکان اور دو ہزار تین سو اٹھاسی ایسے شیعہ جنگجو تھے جو لبنان اور دیگر ملکوں سے وہاں پہنچے۔‘‘

رامی عبدالرحمان نے کہا کہ ہلاک ہونے والے تین ہزار گیارہ افراد کی شناخت نہیں ہوئی۔ خبر رساں ادارے اے 'ایف پی' کے مطابق انہوں نے بتایا کہ ہلاکتوں کی تعداد دو لاکھ سے کہیں زیادہ ہو سکتی ہے لیکن حکومت اور جہادیوں کے زیر انتظام بعض علاقوں سے معلومات کی رسائی آسان نہیں ہے۔

انہوں نے یہ بھی بتایا کہ تین لاکھ افراد شام کی بدنام جیلوں میں قید ہیں جن میں بیس ہزار وہ لوگ بھی شامل ہیں جنہیں لاپتا قرار دیا جا چکا ہے۔

خیال رہے کہ شام میں متحرک جہادی گروپ دولت اسلامی المعروف داعش نے دیگر گروپوں کے ہزاروں جنگجووں اور عام شہریوں کو یرغمال بھی بنا رکھا ہے۔

عبدالرحمان رامی نے شام کا معاملہ بین الاقوامی فوجداری عدالت (آئی سی سی) میں نہ اٹھائے جانے کو عالمی برادری کی ناکامی قرار دیا۔ انہوں نے اے ایف پی سے باتیں کرتے ہوئے کہا: ’’قاتلوں کو انصاف کے کٹہرے میں پہنچانے میں ناکامی سے عالمی برادری انہیں پوری اجازت دے رہی ہے کہ وہ قتل و غارت کا سلسلہ جاری رکھیں۔‘‘

یہ امر اہم ہے کہ شام میں جاری جنگ کو آئی سی سی کے سامنے رکھنے کی متعدد کوششیں ہو چکی ہیں لیکن انہیں اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں روس اور چین کی جانب سے ویٹو کیا جاتا رہا ہے۔