.

عراق : داعش پر ایران نے بھی بمباری شروع کر دی

عراقی فضائی حدود کا مسئلہ عراقی حکومت کا ہے، ہمارا نہیں: پینٹاگان

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ایران نے بھی عراق میں داعش کے ٹھکانوں کو نشانہ بنانے کے لیے بمباری شروع کر دی ہے۔ بمباری کا یہ ایرنی سلسلہ گذشتہ کئی روز سے جاری ہے۔ اس امر انکشاف امریکی پینٹا گان کے ترجمان رئیر ایڈمرل جان کربی نے کیا ہے۔

جان کربی نے اس امر کی وضاحت بھی کی ہے کہ داعش کے خلاف ایرانی فضائی کارروائیاں امریکا اور اس کے اتحادیوں کے ساتھ مربوط نہیں ہیں۔ امریکا عراق میں داعش کو ماہ اگست سے نشانہ بنا رہا ہے۔

پینٹا گان کے ترجمان نے عراق کے اندر ان ایرانی کارروائیوں پر کسی قسم کی تشویش کا اظہار نہیں کیا ہے۔ بلکہ کہا ہے کہ ''عراقی فضائی حدود کے اندر کارروائیوں کی اجازت دینا یا نہ دینا عراقی حکومت کا اختیار ہے، جب امریکا کارروائی کرتا ہے تو عراقی حکومت کے ساتھ رابطہ کر کے کرتا ہے۔ ''

جان کربی نے کہا ''جہاں تک عراق کے اندر ایرانی کارروائیوں کا تعلق ہے ان کارروائیوں کے لیے ایران ایف فور قسم کے جنگی جہاز استعمال کر رہا ہے۔''

ایران کی ان فضائی کارروائیوں سے پہلے عراقی سرزمین پر بھی ایران کی زمینی کارروائیوں کی اطلاعات آتی رہیں کہ ایرانی اہلکار عراقی شیعہ ملیشیا کی مدد کر رہے ہیں۔

یہ اطلاعات بھی آ چکی ہیں کہ ایران نے عراق کو سخوئی ایس یو 25 طیارے دیے ہیں۔ ان خبروں کے ساتھ یہ بھی افواہیں سامنے آئیں کہ ان طیاروں کو ایرانی پائلٹ ہی اڑا رہے ہیں، تاہم اس امریکی انکشاف کے حوالے سے ایران یا عراق کی طرف سے ابھی کچھ نہیں کہا گیا ہے۔