.

غرب اردن: چاقو حملہ، دو یہودی آبادکار زخمی

شاپنگ مارکیٹ کے سکیورٹی گارڈ نے فلسطینی نوجوان پر فائرنگ کردی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ایک فلسطینی نوجوان نے غرب اردن میں واقع ایک سپر مارکیٹ میں دو یہودی آبادکاروں کو چاقو گھونپ کر زخمی کردیا ہے جبکہ ایک سکیورٹی گارڈ اس فلسطینی کو گولی مار دی ہے۔

العربیہ کے نمائندے نے اطلاع دی ہے کہ یہودی آبادکاروں پر چاقو حملے کا یہ واقعہ مقبوضہ بیت المقدس کے مشرق میں واقع ایک یہودی بستی مشرآدمیم میں پیش آیا ہے۔

ایسوسی ایٹڈ پریس نے اسرائیلی پولیس کی ترجمان لوبا سامری کے حوالے سے اطلاع دی ہے کہ ایک سولہ سالہ فلسطینی لڑکے نے سُپر مارکیٹ میں داخل ہوکر دو اسرائیلی گاہکوں پر چاقو کے وار کیے ہیں جس سے وہ زخمی ہوگئے ہیں لیکن ان کے زخم جان لیوا نہیں ہیں۔

ترجمان کے مطابق اس کے بعد شاپنگ مال کے سکیورٹی گارڈ نے حملہ آورلڑکے کو گولی مار کر زخمی کردیا ہے۔اس کی حالت نامعلوم ہے۔

گذشتہ ماہ کے دوران غرب اردن میں فلسطینیوں کے حملوں میں گیارہ یہودی ہلاک ہوگئے تھے۔ان میں پانچ افراد مقبوضہ بیت المقدس میں ایک یہودی معبد پر حملے میں مارے گئے تھے۔ان میں زیادہ تر واقعات مقبوضہ بیت المقدس ہی میں پیش آئے تھے اور دو ایک واقعات تل ابیب اور غرب اردن میں بھی پیش آئے تھے۔

واضح رہے کہ غرب اردن کے شہروں اور دیہات میں یہودی آباد کاروں اور فلسطینیوں کے درمیان غزہ کی پٹی میں اسرائیل کی مسلط کردہ پچاس روزہ جنگ کے خاتمے کے بعد سے کشیدگی پائی جارہی ہے۔اس جنگ میں دوہزار دوسو سے زیادہ فلسطینی شہید ہوگئے تھے اور ستر سے زیادہ یہودی مارے گئے تھے۔ان میں زیادہ تر صہیونی فوجی تھے جو فلسطینی مزاحمت کاروں کے ساتھ جھڑپوں میں ہلاک ہوئے تھے۔