.

فرانسیسی پارلیمان: فلسطینی ریاست کو تسلیم کرنے کی قرارداد منظور

قرارداد کے حق میں 339 اور مخالفت میں 151 ووٹ آئے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

فرانسیسی پارلیمان نے اپنی منظور کردہ ایک قرار داد میں فلسطیی ریاست کو تسلیم کرنے کا مطالبہ کرتے ہوئے حکومت سے اس توقع کا اظہار کیا ہے کہ مشرق وسطی کا دہائیوں پر محیط تنازعہ طے کرنے کے لیے امن عمل کی کوششیں تیز کی جائیں۔

قرارداد کے حق میں 339 ووٹ آئے جبکہ اسکی مخالفت میں 151 ووٹ ڈالے گئے۔ تاہم اس منظور کی گئی قرار داد کی حیثیت محض سفارش جیسی اور علامتی ہے ۔ حکومت کے لیے اس قرارداد پر عمل درآمد کی پابندی لازم نہیں ہے۔

اس کے باوجود فرانسیسی پارلیمان کی طرف سے اس قرارداد کی منظوری سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ یورپ کے اس اہم ملک کے عوام میں بھی مشرق وسطی کے مسئلے کو اس انداز سے دیکھنا اب ممکن نہیں رہا ہے۔ جس انداز سے اسرائیلی حکومت دیکھتی ہے اور یورپی عوام میں فلسطینی ریاست کے لیے حمایت میں غیر معمولی اضافہ پایا جاتا ہے۔

قرار داد میں فرانس کی حکومت سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ فلسطینی ریاست کو تسلیم کرنے کے لیے اقدامات کیے جائیں تاکہ تنازعے کا حل نکل سکے۔

دوسری جانب فرانسیسی حکومت فلسطینی ریاست کو تسلیم کرنے کی حمایت کرتی ہے لیکن اسے فی الحال قبل از وقت بات سمجھتی ہے ۔ واضح رہے فرانس اور برطانیہ سلامتی کونسل کے دو ایسے ارکان ہیں جن کی پارلیمنٹس نے فلسطینی ریاست کے حق میں حالیہ دو ماہ کے دوران قرارداد منظور کی ہے۔

ویٹو کا اختیار رکھنے والے ان دو یورپی ملکوں کی حکومتیں پہلے امن مذاکرات کے ذریعے معاملات طے ہوتے دیکھنا چاہتی ہیں اور بعد میں فلسطینی ریاست کا قیام چاہتی ہیں۔

اس امن عمل کے تحت اسرائیل بھی ایک آزاد فلسطینی ریاست کے قیام مین تعاون کرنے کا پابند ہے ، لیکن وہ مختلف ملکوں کی پارلیمانوں میں اس طرح کی قرار دادوں کی منظوری کو امن مذاکرات کے خلاف قرار دیتا ہے۔ اسرائیل کا کہنا ہے کہ یہ قرار دادیں فلسطینیوں کو مذاکراتی عمل سے دور لے جانے کا باعث بن سکتی ہیں۔

فرانس کی پارلیمان میں فلسطینی ریاست کی منظوری کے بعد پی ایل و کی سینئیر رہنما حنان اشروای اپنے ایک بیان میں فرانسیسی قانون سازوں کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا ہے کہ ''ہم اس حوالے سے فرانس کی حکومت سے مطالبہ کریں گے کہ اپنی پارلیمان کی قرارداد پر عمل کرے۔ ''