.

فلسطین: سلامتی کونسل میں قرار داد لانے کیلیے اردن سرگرم

امکانی طور پر قرار داد کرسمس سے پہلے لائی جا سکتی ہے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

سلامتی کونسل کے واحد عرب رکن اردن نے فلسطین کے حق میں اپنی تجویز کردہ قرارداد کے لیے حمایت حاصل کرنے کی مہم شروع کر دی ہے۔ یہ قرار داد امکانی طور پر اگلے ہفتے کے بعد سلامتی کونسل میں پیش کی جاسکے گی۔

اقوام متحدہ کے لیے اردن کے سفیر دینا کوار اس سلسلے میں عرب ملکوں کے نمائندوں کے علاوہ سلامتی کونسل کے ارکان سے بھی ملاقاتیں کی ہیں تاکہ اپنی مجوزہ قرار داد کے لیے مثبت اور منفی امکانات کا جائزہ لے سکیں۔

قرارداد میں اسرائیل اور فلسطینیوں کے درمیان امن مذاکرات کے لیے حمایت حاصل کرنے کی کوشش کی جائے گی۔ اردنی سفیر نے کہا "قرارداد پر اتفاق رائے کے امکانت بڑھانے کے بعد یہ قرارداد اسی ماہ یا اگلے ماہ کے آغاز میں بھی پیش کی جا سکتی ہے۔"

انہوں نے کہا "تاہم ہماری کوشش یہ ہے کہ ہم اسے کرسمس سے پہلے پیش کریں، اگر ایسا ممکن نہ ہو سکا تو ہم یہ قرار داد جنوری میں پیش کر دیں گے۔"

اردنی سفیر نے کہا ہماری کوشش یہ ہے کہ ہم اس بارے میں تمام متعلقین کو اعتماد میں لیں۔ فلسطینیوں کی حمایت سے عرب لیگ نے ایک قرار داد ماہ ستمبر کے اواخر میں پیش کی تھی تاکہ نومبر 2016 تک اسرائیل کا فلسطین پر قبضہ ختم ہو سکے۔

لیکن اس مسودہ قرارداد کی امریکا اور یورپی ارکان کی طرف سے مخالفت کی گئی تھی۔ بعد میں ایک نئی قرارداد لانے کی بات ہوئی جس میں ایک متفقہ موقف سامنے لانے کے لیے کہا گیا تاکہ اس دیرینہ تنازعے کے خاتمے کےلیے ایک نظام الاوقات پر اتفاق ہو سکے۔

فلسطینی نمائندے ریاض منصور نے دو روز قبل کہا تھا "نئی قراداد متوقع طور پر دو ہفتوں تک پیش کی جا سکتی ہے اور اس پر جلد ووٹنگ ہو سکے گی۔"

ادھر فرانس کی بھی کوشش ہے کہ وہ یورپی بردری کو قرار داد کے حق میں قائل کر سکے۔ فرانس کی پارلیمان نے منگل کے روز ہی فلسطینی ریاست کے حق میں بھی ایک قرارداد منظور کی ہے۔