.

داعش کا دیرالزور میں آخری ائیربیس پر حملہ

امریکی اتحادیوں کے غیر قانونی حملوں سے کچھ فائدہ نہیں ہوا:بشارالاسد

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

شام کےمشرقی صوبے دیرالزور میں دولت اسلامی عراق وشام (داعش) کے جنگجوؤں نے اسدی فوج کے آخری فوجی فضائی اڈے پر حملہ کیا ہے اور ان کے درمیان شدید لڑائی میں چھبیس فوجی وجنگجو ہلاک ہوگئے ہیں۔

برطانیہ میں قائم شامی آبزرویٹری برائے انسانی حقوق اور شام میں مقامی رابطہ کمیٹیوں دونوں نے جمعرات کو دیرالزور شہر کے نواح میں دریائے فرات کے کنارے واقع ائیر فیلڈ میں فریقین کے درمیان لڑائی کی اطلاع دی ہے اور بتایا ہے کہ داعش نے ائیربیس کے نزدیک شامی فوج کے ایک ٹھکانے پر پہلے خودکش حملہ کیا تھا جس کے بعد ان کے درمیان شدید لڑائی چھڑ گئی۔اس میں انیس فوجی اور داعش کے سات جنگجو مارے گئے ہیں۔

اس حملے کے بعد شامی فوج نے نزدیک واقع دیہات پر شدید گولہ باری کی ہے۔واضح رہے کہ داعش کے جنگجوؤں نے دیرالزور کے بیشتر علاقے پر قبضہ کررکھا ہے۔انھوں نے شمال مشرقی شہر الرقہ اور اسی نام کے صوبے میں گذشتہ مہینوں کے دوران شامی فوج کے بہت سے اڈوں پر قبضہ کر لیا ہے اور ان محاذوں پر لڑائی کے دوران سیکڑوں فوجیوں کو گرفتار کر لیا ہے اور ان پکڑے گئے فوجیوں کو اجتماعی طور پر بہیمانہ انداز میں گولیاں مار کر ہلاک کیا ہے۔

جنگ طویل ہوگی

درایں اثناء صدر بشار الاسد نے ایک فرانسیسی میگزین ''پیرس میچ'' میں جمعرات کو شائع شدہ انٹرویو میں کہا ہے کہ شام میں جاری تنازعہ طویل ہوگا۔انھوں نے اس عزم کا اظہار کیا ہے کہ وہ بدستور اقتدار میں رہیں گے۔

انھوں نے کہا کہ کوئی بھی یہ پیشین گوئی نہیں کرسکتا ہے کہ مزاحمت کاروں کے ساتھ یہ جنگ کب ختم ہوگی۔البتہ انھوں نے دعویٰ کیا کہ دشمن آبادی کو جیتنے میں ناکام رہے ہیں اور فوج اب پیش قدمی کررہی ہے۔

بشارالاسد نے پہلی مرتبہ شام میں امریکا کی قیادت میں اتحادی ممالک کے جنگی طیاروں کے داعش پر فضائی حملوں کے حوالے سے بھی اظہار خیال کیا ہے اور کہا ہے یہ حملے ایک غیر قانونی مداخلت ہیں۔ان سے داعش کے جنگجوؤں کے خلاف لڑائی میں کچھ بھی فرق نہیں پڑا ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ ''شامی فوج ہر کہیں ایک ہی وقت میں موجود نہیں ہوسکتی ہے جہاں فوج موجود نہیں ہوتی ہے،دہشت گرد موقع سے فائدہ اٹھا کر سرحد عبور کرلیتے ہیں اور ایک علاقے سے دوسرے علاقے میں دراندازی کرتے ہیں''۔

شامی صدر کا کہنا تھا کہ''یہ کوئی دو فوجوں کے درمیان جنگ نہیں ہے جہاں ایک فوج کا ایک علاقے پر قبضہ ہوتا ہے اور دوسری فوج کا دوسرے علاقے پر قبضہ ہوتا ہے۔ یہ ایک مختلف قسم کی جنگ ہے۔ہمیں کسی ایک قصبے یا گاؤں میں دراندازی کرنے والے دہشت گرد گروپوں سے سامنا ہے۔اس لیے یہ جنگ طویل اور مختلف ہوگی''۔