.

شامی پناہ گزینوں کے لیے عطیات جمع کرنے کی مہم

'ایک ڈالر سے ایک پناہ گزین کی زندگی بچائی جا سکتی ہے'

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

شام میں خانہ جنگی کے نتیجے میں بے گھر ہونے والے 17 لاکھ باشندوں کی خوراک اور دیگر بنیادی ضروریات پوری کرنے کے لیے اقوام متحدہ کے عالمی خوراک پروگرام کے تحت عطیات جمع کرنے کی ایک نئی مہم شروع کی گئی ہے۔ سوشل میڈیا پر جاری اس مہم میں 64 ملین ڈالر کا ہدف مقرر کیا گیا ہے۔

عطیات مہم کی روح رواں اور عالمی ادارہ خوراک کی خاتون ڈائریکٹر آرتھرن کوزان نے روم میں ایک نیوز کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ’ایک ڈالر کوئی بڑی رقم نہیں لیکن اس سے ایک پناہ گزین کی خوراک کا انتظام ہونے سے اس کی زندگی بچ سکتی ہے۔ اس وقت یہ انسانی بقاء کا مسئلہ ہے۔ ہم جانتے ہیں کہ جنگ سے لاکھوں لوگ متاثر ہیں اور اہم ان کے لیے پوری دنیا سے امداد کی اپیل کر رہے ہیں‘۔

انہوں نے کہا کہ اگر 64 ملین افراد ایک ایک ڈالر دیں تو ہمارا ہدف پورا ہو سکتا ہے۔ انہوں نے انٹرنیٹ صارفین سے اپیل کی کہ وہ بھی عطیات جمع کرنے کی مہم میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیں اور ان کی مہم کو سوشل میڈیا پر زیادہ سے زیادہ پھیلائیں۔

خیال رہے کہ عالمی ادارہ خوراک کی جانب سے یہ امدادی مہم ایک ایسے وقت میں شروع کی گئی ہے جب دو روز قبل اقوام متحدہ نے اعتراف کیا تھا کہ وہ شام میں بے گھر ہونے والے لاکھوں شامی پناہ گزینوں کو خوراک کی فراہمی میں ناکام رہے ہیں۔ عالمی ادارے کا کہنا ہے کہ اس وقت لبنان، اردن، ترکی، عراق اور مصر میں لاکھوں شامی پناہ گزین نہایت کسمپرسی کی زندگی بسر کر رہے ہیں۔ رواں دسمبر میں عالمی ادارہ خوراک کو شامی پناہ گزینوں کی خاطر 64 ملین ڈالر کی رقم درکار ہو گی۔


مسز کوزان سے جب پوچھا گیا کہ کیا شامی پناہ گزینوں کی امداد کے لیے ڈونر ممالک کی طرف سے کیے گئے امداد کے وعدے پورے نہیں کیے گئے تو انہوں اس تاثر کی نفی کرتے ہوئے کہا کہ وہ کسی ملک پر ایسا الزام عاید نہیں کر سکتیں۔ اس وقت وہ کسی بھی ڈونر ملک کو پریشانی میں ڈالنے کے بجائے صرف امداد کے حصول کے لیے کوشاں ہیں۔