.

''آئی پیڈ'' سے محروم فرانسیسی جنگجو بوریت کا شکار

"محاذ سے واپسی چاہتا ہوں، لاشیں اٹھانے سے تنگ ہوں"

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

دولت اسلامی 'داعش' سے وابستہ فرانسیسی عسکریت پسند نے اپنے آئی پیڈ فون کے کام نہ کرنے کی وجہ سے داعش کو چھوڑ کر فرانس واپسی کا فیصلہ کر لیا ہے۔ اس امر اظہار فرانس سے تعلق رکھنے والے اس عسکریت پسند نے اپنے خطوط میں کیا ہے۔

ایک فرانسیسی اخبار 'لی فیگارو' نے اس اکتائے ہوئے عسکریت پسند کے خطوط دیکھنے کے بعد تیارکردہ اپنی رپورٹ بتایا کہ سمارٹ فون اور 'آئی پیڈ' کا رسیا یہ نوجوان داعش کے ساتھ رہتے ہوئے وہاں کی پابندیوں اور غیر آرام دہ ماحول کی وجہ سے واپس فرانس آنے کے لیے پریشان ہے۔

اس ناآسودہ عسکریت پسند کے مطابق باقی نوجوان خصوصا غیر ملکی بھی اپنی ذمہ داریوں کے بوجھ تلے ناخوش ہیں۔

اخباری رپورٹ میں اس کے اپنے دوست کو لکھے گئے خطوط کے حوالے سے کہا گیا ہے کہ ''بنیادی طور پر اپنے کپڑے اور کھانے پینے کی اشیاء سے ہاتھ دھونے کے سوا کوئی کام نہیں کیا ہے۔''

اس کے دوست نے 'لی فیگارو' اخبار کو بتایا ہے کہ وہ اب شام کے شہر حلب سے واپس آنا چاہتا ہے۔

ایک خط میں حلب میں موجود اس عسکریت پسند نے اسلحے کی صفائی کی ذمہ داری انجام دینے کا بھی بتایا ہے اور ہلاک ہونے والوں کی لاشوں کو ایک جگہ سے دوسری جگہ پہنچانے کا کام بھی کیا ہے، لیکن وہ اس طرح کے کاموں سے اب تنگ آ چکا ہے۔

ایک خط میں اس تنگ آئے عسکریت پسند نے لکھا ہے ''اب یہاں سردی کا موسم ہے اس لیے یہاں رہنا بہت مشکل ہو رہا ہے۔'' مزید لکھا ہے''داعش کے کمانڈر مجھے محاذ کے خط اول پر بھیجنا چاہتے ہیں لیکن میں لڑنا نہیں جانتا ہوں۔''

واضح رہے فرانس کے تقریباً 376 نوجوان داعش کا حصہ بن چکے ہیں جو ان دنوں شام میں عسکری کارروائیوں میں شامل ہیں۔ 'لی فیگارو' نے اکتائے ہوئے عسکریت پسند کے مکتوب کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ایسا معلوم ہوتا ہے کہ نوجوان اب واپسی چاہتے ہیں۔

ایک وکیل نے لی فیگارو کے حوالے سے کہا ہے ''ہر کوئی جانتا ہے بار بار مظالم کا ارتکاب کرتے رہنے اور دیکھتے رہنے کی وجہ سے اب ان سے بری صورتحال دیکھی نہیں جا سکتی ہے اور یہ مغربی جہادی اب عملاً ٹائم بم کی طرح پھٹنے والے ہو گئے ہیں۔''

لیکن سوال تو یہ ہے کہ کیا فرانس بھی اب ان لوگوں کو واپس لینے کو تیار ہے یا نہیں۔ حال ہی میں بعض یورپی ملکوں عسکریت پسندوں کی آمد و رفت کو روکنے کے لیے اقدامات کیے ہیں۔