.

داعش کے ہاتھوں موصل میں تین قبائلی سردار قتل

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

عراق میں سرگرم دولت اسلامی المعروف داعش نے شمالی عراق کے شہر موصل میں تین قبائلی سرداروں کو سرکاری دفتر کے باہر قتل کر دیا ہے۔ اس امر کی تصدیق عراق کی وزارت انسانی حقوق نے جمعہ کے روز ایک بیان میں کی۔

وزارتی بیان کے مطابق قتل کئے جانے والے رہنماوں کا تعلق الجبور قبیلے سے تھا اور انہیں موصل شہر کو عملا کنٹرول کرنے والے دہشت گرد گروپ کے خلاف بغاوت کا تانا بانا بننے کے الزام میں موت کے گھاٹ اتارا گیا۔

انتہا پسند تنظیم نے مبینہ طور پر عراقی وزارت تعلیم کے متعارف کردہ نصاب تعلیم کو بھی نذر آتش کیا۔ ان کتابوں میں طلبہ کو داعش سے متعلق منفی معلومات فراہم کی گئی تھیں۔

وزارت کے بقول موصل ہی میں گذشتہ ہفتے دولت اسلامی کے جنگجووں نے مقامی ہسپتالوں میں خاندانی منصوبہ بندی کے مراکز بند کر دیئے تاکہ خواتین مانع حمل ادویات حاصل نہ کر سکیں۔

بقول وزارت داعش نے ہسپتال منتظمیں کو سختی سے حکم دیا کہ وہ اپنے ماتحت عملے کو اس بات کا پابند بنائیں کہ وہ داعش کے زخمی افراد کا علاج معالجہ کریں اور اس سلسلے میں جو طبی مواد درکار ہو، وہ بلا روک استعمال کیا جائے۔ داعش کے یہ کارکن حالیہ جنگوں میں شدید زخمی ہوئے تھے۔

داعش کے جنگجووں نے حال ہی میں ایک ہسپتال کے صحن میں ایک لیڈی ڈاکٹر کو نقاب نہ کرنے کی پاداش میں کوڑے مارے۔

حالیہ چند مہینوں کے دوران یو این میں انسانی حقوق کی سابقہ چیئرپرسن نیوی پیلے نے داعش کی جانب سے قتل، غلام بنانے، جنسی جرائم اور لوگوں کو لسانی اور مذہبی بنیادوں پر قتل کرنے جیسے جرائم کے قابل افسوس ارتکاب کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا۔