.

شامی پناہ گزینوں کی دیکھ بھال میں دولتمند ملک ناکام: ایمنسٹی

خلیجی ملک، روس اور چین بھی اس معاملے میں لاتعلق رہے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ایمنسٹی انٹرنیشنل نے امیر ملکوں سے لاکھوں شامی پناہ گزینوں کے لیے انتہائی معمولی امداد ملنے اور ان کی دیکھ بھال کا بوجھ محض غریب پڑوسیوں پر ڈال دینے کو تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔

ایمنسٹی انٹر نیشنل کی طرف سے یہ بیان جمعہ کے روز ایسے وقت پر جب 9 دسمبر کو جنیوا میں شامی پناہ گزینوں کے لیے ڈونرز کانفرنس ہونے والی ہے۔ ایمنسٹی نے اس کانفرنس سے پہلے دنیا کے امیر ملکوں کی اس حوالے سے ناکامی پر سخت ردعمل ظاہر کیا ہے۔

چوتھے سال میں داخل شامی خانہ جنگی کی وجہ سے تقریبا 38 لاکھ شامی شہریوں کو علاقے کے پانچ بڑے ملکوں میں پناہ لینا پڑی ہے۔ ان پانچ ملکوں میں ترکی، لبنان، اردن ،مصر اور عراق شامل ہیں۔

ان میں سے صرف ایک اعشاریہ سات فیصد پناہ گزینوں کو پوری دنیا کی طرف سے عبادت کے لیے جگہ فراہم کی جا سکی ہے۔

ایمنسٹی نے اس امر کی نشاندہی شامی پناہ گزینوں کو فراہم کی گئی جگہ کی کمی کی طرف اشارہ کرنے کے لیے کی گئی ہے۔ انسانی حقوق کے لیے سرگرم اس ادارے نے یہ نوٹ کیا ہے کہ خلیجی ممالک، روس اور چین نے ان پناہ گزینوں کو ایک بھی ایسی جگہ فراہم نہیں کی گئی ہے جہاں شامی پناہ گزین سر چھپا سکیں۔ جبکہ جرمنی، یورپین یونین نے مجموعی طور پر نہ صرف صفر اعشاریہ ایک سات فیصد کو ایسی سہولت پیش کی ہے۔

ایمنسٹی انترنیشنل کے نقل مکانی پر مجبور ہونے والے شہریوں کے شعبے کے سربراہ شریف السید علی '' کہ خلیجی ملکوں کی طرف سے شامی پناہ گزینوں کی طرف سے بے تعلقی شرمناک ہے۔''

انہوں نے مزید کہا ''لسانی اور مذہبی قربت کی وجہ سے خلیجی ریاستوں کو چاہیے کہ وہ ان بے گھر ہونے والے شامی شہریوں کو چھت فراہم کرنے والوں میں سب سے آگے ہوں۔''

ایمنسٹی کے پناہ گزینوں سے متعلق شعبے کے سربراہ نے کہا '' یہ امیر ممالک کی ناکامی ہے کہ انہوں نے سارا بوجھ پڑوسی ملکوں پر ڈال دیا ہے۔

واضح رہے 2011 سے خانہ جنگی میں گھرے ملک شام کے سات ملین سے زائد لوگ پناہ گزینوں کے حوالے سے اقوام متحدہ کا کہنا ہے کہ یہ سخت مشکلات سے دوچار ہیں۔