.

یمن: القاعدہ سے امریکی صحافی کو چھڑانے کی کارروائی ناکام

امریکی فوجیوں نے یہ کاروائی یمن فوج کی کوآرڈینشن سے کی تھی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

پینٹاگان کی طرف سے اعتراف کیا گیا ہے کہ ایک ماہ قبل عسکریت پسند اغواء کاروں سے امریکی شہری کو چھڑوانے کی فوجی کارروائی ناکام ہو گئی تھی۔

پینٹا گان کے ترجمان رئیر ایڈمرل جان کربی نے اپنے ایک مختصر بیان میں کہا ہے کہ جب امریکی فوجی دستے نے امریکی شہری لیوک سومر کو عسکریت پسندوں سے چھڑانے کے لیے آپریشن کیا تو عسکریت پسند سومر کی جگہ تبدیل کر چکے تھے۔

امریکی وزارت دفاع کے اس بیان میں کہا گیا ہے کہ 33 سالہ لیوک سومر لگ بھگ ایک درجن امریکیوں میں سے واحد امریکی ہے جنہیں القاعدہ سے منسلک مقامی عسکریت پسند گروہ نے اغوا کیا تھا۔

کارروائی کے ایک ماہ بعد پینٹا گان کی طرف سے اس بیان کے جاری کرنے کی وجہ یہ بتائی گئی ہے کہ لوگوں تک اصل حقائق پہنچائے جا سکیں۔ کیونکہ اس حوالے سے میڈیا میں مختلف خبریں آ رہی ہیں۔

اس سے پہلے یہ خبر بھی سامنے آ چکی ہے کہ اغواء کاروں سے آٹھ افراد کو بازیاب کرایا جا چکا ہے۔ جبکہ یمنی حکام نے بتایا تھا کہ ایک امریکی صحافی اور برطانوی شہری اس کارروائی سے پہلے کہیں ریڈ والی جگہ سے کہیں اور لے جائے جا چکے تھے۔ جان کربی نے اس خفیہ رکھے گئے مشن کے بارے میں کچھ تفصیلات جاری کی ہیں۔

دوسری جانب وائٹ ہاوس کی ترجمان برناڈیٹے میہان نے کہا ہے کہ امریکا ایک ایسی ویڈیو سے بھی آگاہ ہے، جس میں امریکی شہری سومر کو دکھایا گیا ہے۔

وائٹ ہاوس کی ترجمان کے مطابق صدر اوباما نے سومر اور دوسرے امریکیوں کی رہائی کے لیے پچھلے ماہ فوجی کارروائی کی اجازت دی تھی، لیکن افسوس کہ اس موقع پر سومر کو رہا نہ کرایا جا سکا۔

میہان کے مطابق اپنے شہریوں کی بازیابی کے لیے یہ کارروائی یمنی حکومت اور فوج کے ساتھ کوآرڈینیشن سے کی گئی۔ تاہم اغواء کاروں کے زیر حراست امریکی شہریوں کی حفاظت کے پیش نظر اس کارروائی کو خفیہ رکھا گیا تھا۔