.

مصر کو جوہری معلومات منتقل کرنے کے الزام میں انجنئیر گرفتار

ایف بی آئی کے ایجنٹ مصری افسر بن کے نگرانی کرتے رہے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

امریکی سکیورٹی اداروں نے امریکی بحریہ سے منسلک ایک سویلین انجنئیر کو گرفتار کر لیا ہے۔ امریکی وزارت انصاف کے مطابق اس انجیئیر مصفیٰ احمد عواد پر جوہری اسلحہ بردار بحری بیڑے کے راز مصر کو فراہم کرنے کا الزام ہے۔

امریکی تحقیقاتی ادارے ایف بی آئی کے ایجنٹوں نے خود کو مصری انٹیلی جنس ادارے کے افسر کے طور پر پیش کر کے 35 سالہ مصطفیٰ احمد عواد کی ریاستِ ورجینیا میں نگرانی کی اور بعد ازاں اسے گرفتار کر لیا گیا۔

اس انجنئیر پر الزام عاید کیا گیا ہے کہ اس نے دفاعی امور سے متعلق اشیاء اور ڈیٹا حاصل کرنے کی کوشش کی تھی۔ پینتیس سالہ انجینئیر پر لگائے گئے الزامات میں سے ہر الزام کی سزا زیادہ سے زیادہ بیس سال قید تک ہو سکتی ہے۔

عواد نے ایف بی آئی کے ایجنٹوں کو مصری افسر سمجھتے ہوئے بتایا تھا کہ وہ چاہتا ہے کہ امریکی بحریہ میں اپنے قائم ہونے والے اعتماد سے فائدہ اٹھا کر مصر کے لیے دفاعی ٹیکنالوجی کا حصول ممکن بنائے۔

الزام ہے کہ اس نے امریکا کے زیر تکمیل جوہری بحری بیڑے یو ایس ایسگیرالڈ آر فورڈ کے ڈیزائن سے متعلق معلومات بھی حاصل کرنے کی کوشش کی۔ عواد کو بدھ کے روز ان الزامات کے تحت عدالت میں پیش کیا جائے گا۔