.

اسرائیل:حالیہ غزہ جنگ کی 8 نئی تحقیقات کا آغاز

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

اسرائیلی فوج نے غزہ کی پٹی میں حالیہ جنگ کے دوران انسانی حقوق اور بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزیوں سے متعلق الزامات کی چھان بین کے لیے آٹھ نئی تحقیقات کا آغاز کیا ہے۔

اسرائیلی فوج کے ترجمان نے اپنے بلاگ میں پوسٹ کیے گئے ایک بیان میں کہا ہے کہ ملٹری ایڈووکیٹ جنرل نے ستمبر میں غزہ جنگ کے دوران رونما ہونے والے واقعات سے متعلق پانچ مختلف نئی فوجداری تحقیقات کا فیصلہ کیا ہے۔

بیان میں کہا گیا ہے کہ غزہ جنگ سے متعلق ایک سو سے زیادہ غیر معمولی واقعات رپورٹ ہوئے تھے۔ان میں سے پچاسی کا مختلف مراحل میں جائزہ لیا گیا ہے۔اسرائیلی اخبار ہارٹز نے اپنی رپورٹ میں بتایا ہے کہ صہیونی فوج کو ان واقعات کی تفصیل سے آگاہ کیا گیا ہے جہاں بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزی کی گئی تھی۔

امریکی فوج نے ان واقعات میں سے ایک میں حماس کے ایک عہدے دار کو فضائی حملے میں نشانہ بنایا تھا۔اس حملے میں ستائیس فلسطینی شہید ہوگئے تھے۔ان میں دو حاملہ خواتین ،انیس کم سن بچے اور ایک چار سال کا شیرخوار بچہ بھی شامل تھا۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق اسرائیلی دفاعی فورسز (آئی ڈی ایف) نے اس حملے سے قبل پالیسی کے مطابق مکینوں کو خبردار نہیں کیا تھا۔فوجی ترجمان کی جانب سے جاری کردہ بیان میں بتایا گیا ہے کہ حقائق اکٹھا کرنے والے جائزہ میکانزم نے ملٹری ایڈووکیٹ جنرل کو رپورٹ دی ہے کہ اسرائیلی دفاعی فوج نے طے شدہ طریق کار اور قواعد وضوابط کی خلاف ورزی کا ارتکاب کیا تھا۔

25 جولائی کو ایک ایمبولینس ڈرائیور کی شہادت سے متعلق دو الگ الگ واقعات کی بھی تحقیقات کی جارہی ہے۔تاہم فوج کا کہناہے کہ غیر سرکاری تنظیموں (این جی اوز) نے اپنے الزامات کے حق میں ٹھوس معلومات فراہم نہیں کی ہیں۔تاہم ملٹری ایڈووکیٹ جنرل نے اس واقعہ کی فوجداری تحقیقات کا حکم دیا ہے۔