.

جوہری تنازع پر ایران کو پسپائی پر مجبور کیا گیا: امریکا

تہران نے امریکی دعویٰ سختی سے مسترد کر دیا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

امریکی صدر براک اوباما نے کانگریس کو ایران کے متنازعہ ایٹمی پروگرام کے حوالے سے ہونے والے مذاکرات کے بارے میں اعتماد میں لیتے ہوئے دعویٰ کیا ہے کہ مذاکرات میں تہران نے بڑے پیمانے پر پسپائی اختیار کی ہے۔

خبر رساں ایجنسی’’ایسوسی ایٹیڈ پریس‘‘ کے مطابق صدر اوباما نے ایران کی پسپائی کا تذکرہ کرتے ہوئے کہا کہ ایران نے عہد کیا ہے کہ وہ کسی بھی وقت عالمی معائنہ کاروں کو اپنی جوہری سرگرمیوں کی جانچ پڑتال کی اجازت دے گا، نیز وہ ذخیرہ شدہ یورنیم کی بھاری مقدار کو تلف کر دے گا۔

دوسری جانب ایرانی حکومت نے امریکی صدر کے اس دعوے کی سختی سے تردید کی ہے۔ ایران کی قومی توانائی ایجنسی کے ترجمان بہروز کمال وندی نے اپنے ایک بیان میں کہا کہ چھ عالمی طاقتوں اور ایران کے درمیان گذشتہ ماہ کے آخر میں ہونے والے مذکرات میں ایران نے کوئی اضافی شرط قبول نہیں کی تھی۔ ایران نے اپنی جوہری سرگرمیوں کی معائنہ کاری کی جہاں تک پہلے اجازت دے رکھی تھی پیش آئند چھ ماہ میں بھی عالمی معائنہ کاروں کو وہیں تک جانے کی اجازت ہو گی۔

ایرانی خبر رساں ایجنسی’’ایرنا‘‘ کے مطابق مسٹر کمال وندی نے مزید کہا کہ امریکی صدر کا یہ دعویٰ بھی غلط ہے کہ تہران نے جوہری پروگرام کے حوالے سے تحقیق وجستجو اور یورنیم افزودگی پر نئی پابندیاں قبول کی ہیں۔ ایران اگلے سات ماہ کے دوران بھی معمول کے مطابق اپنی جوہری سرگرمیاں جاری رکھے گا۔

کانگریس کو اعتماد میں لینے کی کوشش

خبر رساں ایجنسی’’ایسوسی ایٹیڈ پریس‘‘ کے مطابق امریکی صدر براک اوباما نے اپنے تئیں ایران کے جوہری تنازع پر مذاکرات میں سات ماہ کی توسیع پر کانگریس کو اعتماد میں لینے کی کوشش کی۔ کانگریس کے دونوں ایوانوں کے مشترکہ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے صدر اوباما کا کہنا تھا کہ ’’ہم نے ایران کو اس کے جوہری پروگرام پر اب بہت پیچھے ہٹا دیا ہے‘‘۔

رپورٹ کے مطابق امریکی صدر جہاں کانگریس کو ایران کے جوہری تنازعہ کے حوالے سے اعتماد میں لینے کی کوشش کر رہے ہیں وہیں وہ تہران کے خلاف مزید اقتصادی پابندیوں کا معاملہ بھی سات ماہ کے لیے موخر کرانے کے خواہاں ہیں۔

خیال رہے کہ نومبر کے آخری ہفتے میں ایران اور چھ عالمی طاقتوں کے درمیان تہران کے جوہری پروگرام پر ہونے والی بات چیت بغیر کسی سمجھوتے کے ختم ہو گئی تھی اور فریقین نے مزید سات ماہ تک مذاکراتی عمل جاری رکھنے پر اتفاق کیا تھا۔

ایرانی توانائی ایجنسی کی جانب سے صدر اوباما کے دعوے کی سختی سے تردید سامنے آ چکی ہے۔ ایرانی خبر رساں ایجنسی نے تہران کی مذاکراتی ٹیم کے ایک ذریعے کے حوالے سے بتایا ہے کہ گیسوں کی ایندھن اور شیٹس میں تبدیلی کا عمل معمول کے مطابق جاری رہے گا تاہم آئند مہینوں میں اس کی مقدار میں معمولی کمی کی جائے گی۔