.

شامی فوج کا داعش پر کلورین گیس کا استعمال

جنگجو مہلک گیس کے حملے کے بعد دیرالزور کے فوجی اڈے سے پسپا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

شامی فوج نے مشرقی شہر دیرالزور کے نواح میں واقع ائیربیس کی جانب سخت گیر جنگجو گروپ دولت اسلامی عراق وشام (داعش) کی پیش قدمی روکنے کے لیے مہلک زہریلی گیس کلورین کا استعمال کیا ہے۔

برطانیہ میں قائم شامی آبزرویٹری برائے انسانی حقوق نے اپنی ویب سائٹ پراطلاع دی ہے کہ شامی فوج نے داعش کی ملٹری ائیربیس کی جانب پیش قدمی روکنے کے لیے شدید گولہ باری اور فضائی بمباری کی ہے۔

آبزرویٹری کا کہنا ہے کہ اس کو شامی فوج کی جانب سے داعش پر بمباری کے دوران کلورین گیس کے استعمال کے مصدقہ ثبوت ملے ہیں۔اس گیس سے پھیپھڑوں کو شدید نقصان پہنچتا ہے۔اس خطرناک گیس کا سامنا کرنے کے بعد داعش کے جنگجو پسپا ہوگئے تھے۔اس نے مزید اطلاع دی ہے کہ گذشتہ تین روز کے دوران اڑسٹھ جہادی مارے گئے ہیں۔ان میں دو فرانسیسی شہری ،ایک تیونسی اور تینتیس شامی شامل ہیں۔

صوبہ دیرالزورکے علاقے الحوائقہ میں شامی فوج اور داعش کے جنگجوؤں کے درمیان شدید لڑائی جاری ہے۔ دیرالزور شہر کے نواح میں دریائے فرات کے کنارے واقع اس ائیرفیلڈ میں فریقین کے درمیان جمعرات کو لڑائی شروع ہوئی تھی۔

داعش نے ائیربیس کے نزدیک شامی فوج کے ایک ٹھکانے پر پہلے خودکش حملہ کیا تھا جس کے بعد ان کے درمیان لڑائی میں انیس فوجی اور داعش کے سات جنگجو مارے گئے تھے۔اس حملے کے بعد شامی فوج نے نزدیک واقع دیہات پر شدید گولہ باری کی تھی۔

واضح رہے کہ داعش کے جنگجوؤں نے دیرالزور کے بیشتر علاقے پر قبضہ کررکھا ہے۔تاہم اس شہر کے ایک حصے اور صوبے کے بعض علاقے بدستور حکومت کے کنٹرول میں ہیں۔داعش نے شمال مشرقی شہر الرقہ اور اسی نام کے صوبے میں گذشتہ مہینوں کے دوران شامی فوج کے بہت سے اڈوں پر قبضہ کر لیا تھا اور ان محاذوں پر لڑائی کے دوران سیکڑوں فوجیوں کو گرفتار کر لیا تھا۔بعد میں ان پکڑے گئے فوجیوں کو اجتماعی طور پر بہیمانہ انداز میں گولیاں مار کر ہلاک کردیا تھا۔