.

اسرائیلی حملے میں حزب اللہ کے دو جنگجوؤں کی ہلاکت

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

اسرائیلی فوج کے اسی اختتام ہفتہ پر شام میں ایک فضائی حملے میں لبنان کی شیعہ ملیشیا کے دو جنگجو مارے گئے ہیں۔

شام سے ذرائع نے سوموار کے روزالعربیہ نیوز چینل کو بتایا ہے کہ ان دونوں مہلوکین میں حزب اللہ کا ایک سرکردہ جنگجو بھی شامل ہے۔شام کے سرکاری ٹیلی ویژن نے اتوار کو اطلاع دی تھی کہ اسرائیل نے دارالحکومت دمشق کے بین الاقوامی ہوائی اڈے اور لبنان کی سرحد کے نزدیک واقع ایک قصبے پر دو فضائی حملے کیے ہیں مگر ان حملوں میں کوئی جانی نقصان نہیں ہوا ہے۔

شامی فوج کی جنرل کمان نے سرکاری ٹیلی ویژن سے نشر کیے گئے ایک بیان میں کہا تھا کہ اسرائیلی حملوں میں بعض جگہوں پر مالی نقصان ہوا ہے۔دمشق کے مکینوں نے ان فضائی حملوں کے معاً بعد زور دار دھماکوں کی آوازیں سننے کی اطلاع دی تھی اور حزب اختلاف سے تعلق رکھنے والے کارکنان نے فضا میں اڑتے ہوئے جیٹ طیاروں کی تصاویر آن لائن پوسٹ کی تھیں۔

واضح رہے کہ اسرائِیل اس سے پہلے بھی متعدد مرتبہ دمشق اور اس کے نواح میں صدر بشارالاسد کے خلاف گذشتہ قریباً چار سال سے جاری احتجاجی تحریک کے دوران فضائی حملے کر چکا ہے لیکن اس نے کبھی ان حملوں کی تصدیق نہیں کی ہے۔

اسرائیل نے ان حملوں میں حزب اللہ کے جنگجوؤں یا ہتھیاروں کے ڈپوؤں کو نشانہ بنایا ہے اور اسرائیلی حکام متعدد مرتبہ یہ کَہ چکے ہیں کہ وہ شیعہ ملیشیا کو شام کے ایسے ''کھیل تبدیل کرنے والے ہتھیار'' حاصل نہیں کرنے دیں گے جن سے طاقت کا موجودہ توازن تبدیل ہوجائے۔حزب اللہ کے مسلح جنگجو شام میں صدر بشارالاسد کی وفادار فوج کے ساتھ مل کر باغی گروپوں کے خلاف لڑرہے ہیں۔بعض غیر مصدقہ اطلاعات کے مطابق ان کی تعداد ہزاروں میں ہے۔