.

مقبوضہ القدس:اسکول پر حملہ، متعدد مشتبہ افراد گرفتار

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

اسرائیلی پولیس نے مقبوضہ بیت المقدس میں ایک یہودی،عرب اسکول پر حملے کے الزام میں متعدد مشتبہ ملزموں کو گرفتار کر لیا ہے۔

اسرائیلی پولیس کی خاتون ترجمان لوبا سامری نے اے ایف پی کو بتایا ہے کہ ''پولیس اور شین بیت (سکیورٹی سروسز) نے 29 نومبر کو اسکول کے ایک کلاس روم کو نذرآتش کرنے کے واقعے کے الزام میں متعدد مشتبہ افراد کو حراست میں لے لیا ہے''۔ترجمان نے گرفتار مشتبہ افراد کی شناخت اور تعداد نہیں بتائی ہے۔

عرب یہود اسکول پر بظاہر یہ حملہ انتہا پسند یہودیوں نے کیا تھا۔اس کے نتیجے میں جماعت اول کے کمرے کو شدید نقصان پہنچا تھا۔حملہ آوروں نے اسکول کی دیواروں پر عبرانی زبان میں نعرے بھی لکھ دیے تھے۔ان میں لکھا تھا کہ ''مرگ بر عرب'' اور کینسر کے ساتھ اکٹھے نہیں رہا جا سکتا۔

اسرائیلی اخبار ہارٹز کی رپورٹ کے مطابق اس حملے کے بعد بعض والدین نے یہ کوشش کی تھی کہ اس کی میڈیا میں بہت زیادہ کوریج نہ ہو۔انھیں یہ خدشہ لاحق تھا کہ اس کے بعد اسکول انتہا پسندوں کے حملوں کا ہدف بن سکتا ہے۔

اسرائیلی وزیراعظم بنجمن نیتن یاہو اور دوسرے سینیر عہدے داروں نے 30 نومبر کو ہینڈ ان ہینڈ اسکول پر حملے کی مذمت کی تھی۔یہ اسکول مغربی بیت المقدس کو مشرقی بیت المقدس کے درمیان حد فاصل گرین لائن پر واقع ہے اور اس میں اس وقت 624 طلبہ زیر تعلیم ہیں۔