.

امیر کویت کو یو این میں ’قائد انسانیت‘ کا خطاب عطاء

خلیجی رہ نمائوں کی امیر کویت کو خطاب ملنے پر عزت افزائی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

اقوام متحدہ کی جانب سے خلیجی ریاست کویت کے امیر الشیخ الاحمد جابر الصباح کو ’’قائد انسانیت‘‘ کا خطاب ملنے پر خلیج سربراہی اجلاس میں شریک رہ نمائوں نے بھی اس کا خیر مقدم کرتے ہوئے امیر کویت کی عزت افزائی کی ہے۔

اقوام متحدہ کی جانب سے قائد انسانیت کا خطاب ملنے پر تبصرہ کرتے ہوئے امیر کویت نے کہا کہ یہ خطاب صرف کویت کے لئے نہیں بلکہ تمام خلیجی ممالک کی عزت و تکریم ہے۔

امیر کویت نے مطالبہ کیا کہ خلیجی اتحاد کے پروگرام کو آگے بڑھانے کے لیے اعلیٰ سطح کی ایک کمیٹی تشکیل دی جائے۔ انہوں نے مزید کہا کہ خلیجی ممالک کے مشترکہ سفر کی راہ میں حائل رکاوٹیں اور خوف ہمیں مشترکہ دفاع کے لیے جدوجہد پر مجبور کرتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ بات چیت اور بھائی چارے کی فضاء قائم کرکے ہم ہر قسم کے اختلافات ختم کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ امیر کویت نے خلیجی ممالک میں پائے جانے والے اختلافات کو ختم کرنے میں سعودی عرب کے کردار کی تعریف کی۔ انہوں نے دہشت گردی کی مذمت اور اس کی شکل کے خلاف جہاد جاری رکھنے اور خلیجی ممالک میں اقتصادی ترقی کے فروغ کی ضرورت پر بھی زور دیا۔

شام کے بحران سے متعلق اظہار خیال کرتے ہوئے امیر کویت کا کہنا تھا کہ شام میں لاکھوں افراد کے قتل کے اور گھر بدری کے بعد ہماری ذمہ داریاں بڑھ جاتی ہیں۔ 'میرے خیال میں شام میں جو کچھ ہو رہا ہے وہ تاریخ کا ایک ہولناک جرم ہے، اسے اب ہر قیمت پر بند ہونا چاہیے۔'

انہوں نے مشرق وسطیٰ میں قیام امن کی مساعی کو سبوتاژ کرنے کی ذمہ داری اسرائیل پر عائد کی اور کہا کہ صہیونی ریاست کی ضد پر مبنی پالیسی کے باعث امن عمل تباہی سے دوچار ہوا ہے۔