.

ایران پلوٹونیم کی بڑی مقدار کی تیاری کے لیے متحرک

سلامتی کونسل کو پیش کی گئی اقوام متحدہ کی رپورٹ میں انکشاف

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ایران پر الزام عاید کیا گیا ہے کہ وہ غیر قانونی طریقے سے بھاری پانی سے چلنے والے ری ایکٹر کو آگے بڑھا رہا ہے۔ اگر یہ اس میں کامیاب ہو گیا تو ایران اتنا پلوٹونیم تیار کرسکے گا جس سے کئی جوہری ہتھیار بن جائیں گے۔

یہ بات اقوامتحدہ کے سفارتکاروں نے ایک عالمی خبر رساں ادارے سے گفتگو کے دوران کہی ہے۔ دوسری جانب امریکا اور اس کے پارٹنر چاہتے ہیں کہ ایران اراک نامی اپنے ری ایکٹر کو ہلکے پانی نے چلانے کے لیے از سر نو تیار کر لے۔

اقوام متحدہ کے ان سفارتکاروں کا اگر یہ الزام درست ہے تو اس کا مطلب ہے کہ ایران نے اپنے مذکورہ ری ایکٹر کی ازسر نو تشکیل کا امریکی مطالبہ مسترد کر دیا ہے ۔

اس سے پہلے ایران یہ موقف اختیار کرتا رہا ہے کہ وہ ری ایکٹر کی ہیت تبدیل کرنے اور گنجائش کو کم کرنے کے بجائے پلوٹونیم کی پیداوار میں کمی کر سکتا ہے ۔

امریکا ایران کی اس تجویز کو ماننے کو تیار نہیں ہے۔ امریکی موقف یہ ہے کہ یہ اس مسئلے کا مستقل حل نہیں ہو سکتا کیونکہ ایران چاہے گا تو کچھ دیر بعد پھر سے پلوٹونیم کی پیداوار بڑھا لے گا۔ لہٰذا اس ایرانی حل کو قبول نہیں کیا جا سکتا ہے۔

اقوام متحدہ کے سفارتکاروں کی طرف سے ایران کے خلاف یہ الزامات حال ہی میں ایک ایسی رپورٹ کے حوالے سے سامنے آئے ہیں جو سلامتی کونسل کی اس کمیٹی کو پیش کی گئی ہے جو ایران کے خلاف اقتصادی پابندیوں کے لیے قائم ہے۔ لیکن یہ رپورٹ ایرانی جوہری سرگرمیوں کی تازہ ترین عکاسی ہے اور یہ رپورٹ ابھی منظر عام پر نہیں لائی گئی ہے۔

ایران کے جوہری ادارے کے ترجمان بہروز کمال وندی کا اس بارے میں کہنا ہے '' ان کے علم میں ایسی کوئی خریداری نہیں ہے جو '' اراک '' نامی ری ایکٹر کے حوالے سے کی گئی ہو۔ ''

امریکی دفتر خارجہ کی ترجمان میری حارف کا اس حوالے سے کہنا ہے '' ایران نے اتفاق کر لیا ہے کہ و ہ '' اراک '' میں مزید کوئی بہتری نہیں لائے گا اور اس نے ابھی تک ایسا نہیں کیا ہے ۔''

تاہم میری حارف نے کہا '' ''ایران کی خریداری سے متعلق سرگرمیوں کے بارے میں نہ صرف امریکا جانتا ہے بلکہ اسے ان پر تشویش بھی ہے۔ '' ایران کا دعویٰ ہے کہ اس کا جوہری پروگرام مکمل طور پر پر امن ہے ۔

امریکا سمیت پانچ بڑی عالمی طاقتوں کے ساتھ ایران کے مذاکرات 2013 سے جاری ہیں۔ لیکن ایک حتمی معاہدے کے لیے 24 نومبر 2014 کی ڈیڈ لائن پوری نہ ہونے کے بعد اگلے سال ماہ جون تک اس ڈیڈ لائن میں توسیع کر دی گئی ہے۔