.

داعش عراق وشام سے باہر ٹھکانے بنا سکتی ہے: جان کیری

داعش مخالف جنگی اختیار محدود نہ کیا جائے، سینٹ کمیٹی سے خطاب

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

امریکی وزیر خارجہ جان کیری نے زور دے کر کہا ہے کہ داعش کے خلاف عراق اور شام میں فوجی طاقت کے استعمال کے حوالے قدغنیں نہ لگائی جائیں اور نہ صدر براک اوباما کے عسکری گروپوں کے خلاف کارروائی کے حوالے سے اختیارات کو محدود کیا جائے۔

یوں امریکا کے وزیر خارجہ جان کیری نے عراق اور شام کے علاوہ دوسرے ملکوں میں بھی داعش کے خلاف کارروائیاں کرنے کا اختیار بالواسطہ انداز میں سے مانگ لیا ہے تاکہ آئندہ دنوں ضرورت پڑے تو داعش کے خلاف کارروائی کا دائرہ بڑھایا جا سکے۔

جان کیری نے یہ بات سینیٹ کی ایک کمیٹی کے سامنے کہی ہے۔ سینیٹ کی کمیٹی میں ان دنوں فوج کے استعمال کے اختیارات کا معاملہ زیر غور ہے۔

امریکی وزیر خارجہ نے کہا '' ہم نہیں سمجھتے ہیں کہ فوج کے استعمال سے متعلق اختیارات کے قانون '' اے یو ایم ایف '' میں جغرافیائی تحدید لگائی جائے گی۔ ''

نیز ''ہمیں نہیں لگتا ہے کہ عراق اور شام کے علاوہ کہیں فوجی استعمال کی ضرورت ہو گی کیو نکہ داعش سے امریکی مفادات اور امریکیوں کو دوسری جگہوں پر بھی خطرہ ہے۔''

انہوں نے کہا ''ہم نہیں چاہتے کہ داعش کے خلاف ضروری ہونے پر ہماری اہلیت کو دوسری جگہوں پر بروئے کار آنے سے روکا جائے۔''

امریکی وزیر خارجہ نے دوٹوک انداز میں کہا اگر ایسا کیا گیا تو یہ ایک غلطی ہو گی، کہ داعش، عراق اور شام سے باہر اپنے لیے محفوظ ٹھکانے بنا لے۔''

جان کیری نے سینیٹ کی کمیٹی کو بتایا اوباما انتظامیہ سینیٹر رابرٹ مینیڈیز کی اس تجوز کی حمایت کرتی ہے جس میں کہا گیا ہے کہ انتظامیہ کو غیر محدود مدت کے لیے جنگی اختیار دینے کے بجائے مزید تین سال کے لیے جنگی اختیار دے دیا جائے۔''

مسٹر کیری نے یہ بھی کہا یہ اہم بات ہے کہ دونوں جماعتوں کی طرف سے اختیار دیا جائے جس سے یہ واضح ہو جائے کہ یہ کسی ایک پارٹی کی جنگ نہیں ہے۔