.

ہزاروں اہلِ تشیع کی جوق درجوق کربلا آمد

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

عراق اور ہمسایہ ممالک سے تعلق رکھنے والے ہزاروں شیعہ زائرین نواسہ رسول حضرت امام حسین رضی اللہ عنہ کی شہادت کے چہلم کی تقریبات میں شرکت کے سلسلہ میں کربلا پہنچ رہے ہیں۔

کربلا میں یوم اربعین ہفتے کو منایا جارہا ہے۔ہزاروں اہل تشیع عراق کے اس جنوبی شہر کی جانب جانے والی شاہراہوں پر گاڑیوں کے ذریعے اور پیدل رواں دواں ہیں۔عراقی حکام نے اس خدشے کا اظہار کیا ہے کہ اس موقع پر سنی جنگجو شیعہ زائرین کو اپنے حملوں کا نشانہ بنا سکتے ہیں۔

عراق کے شیعہ وزیراعظم حیدر العبادی نے اسی ہفتے کربلا کے دورے کے موقع پر کہا ہے کہ''ہمارے پاس ایسی اطلاعات ہیں کہ حملہ آور زائرین کے ہجوم میں دراندازی کی کوشش کرسکتے ہیں اور ہر کہیں شہریوں کو ہلاک کرسکتے ہیں''۔تاہم ان کا کہنا تھا کہ سکیورٹی فورسز اربعین میں گڑبڑ پھیلانے کی کسی بھی سازش کو ناکام بنا دیں گی۔

عراقی حکومت نے اس مرتبہ ویزے کی پابندیوں میں نرمی کی ہے جس کی وجہ سے پڑوسی ممالک سے تعلق رکھنے والے اہل تشیع بھی ہزاروں کی تعداد میں کربلا پہنچ رہے ہیں۔عراقی فوج سنی جنگجو گروپ داعش کے خلاف مغربی اور شمالی صوبوں میں محاذ آرا ہے اور سکیورٹی فورسز کی نفری کی کمی کو پورا کرنے اور امن وامان کی صورت حال قابو میں رکھنے کے لیے شیعہ ملیشیاؤں پر انحصار کررہی ہے۔

عراقی حکومت نے اربعین کی تقریبات میں شرکت کے لیے آنے والے غیرملکیوں کے لیے ویزا فیس بالکل ختم کردی ہے اور یہ بالعموم چالیس ڈالرز کے لگ بھگ ہوتی ہے۔عراق کے جنوبی شہر بصرہ کے مشرق میں واقع شلامجا بارڈر کراسنگ سے ہزاروں ایرانی روزانہ عراق میں داخل ہورہے ہیں۔ایک سرحدی عہدے دار کے بہ قول منگل تک قریباً دو لاکھ ایرانی سرحد عبور کر کے عراق میں داخل ہو چکے تھے۔

کربلا کے نائب گورنر جاسم عابد نے بتایا ہے کہ شہر میں پہلے ہی بیس لاکھ غیرملکی پہنچ چکے ہیں۔ان میں زیادہ تر ایرانی ہیں۔ان کے علاوہ پاکستان ،شام اور دوسرے ممالک سے تعلق رکھنے والے شیعہ زائرین بھی کربلا پہنچ رہے ہیں۔