.

''داعش کے بعد کردوں کی علاقائی خود مختاری کا امکان ''

بغداد حکومت حقوق دینے میں ناکام رہی ہے: کرد رہنما طالبانی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

عراقی کردوں کے اعلیٰ ذمہ دار نے اس یقین کا اظہار کیا ہے کہ داعش کے خلاف ان کی جدوجہد کامیاب ہو گئی تو عراق کی مرکزی حکومت کو کردوں کی نیم خود مختار حکومت سے ایک خود مختار سنی کرد علاقے میں تبدیل کرنے پر آمدگی ظاہر کرنا ہو گی۔

کردوں کے نائب وزیراعظم طالبانی نے اپنے امریکی دورے کے موقع پر دیے گئے ایک تازہ انٹرویو میں کہا ہے ''ان کی اپنی سنی آبادی کو وسیع البیناد سنی کنٹرول دینا ہو گا تاکہ یہ لوگ داعش میں شامل نہ ہوں۔ ''

عراق اور امریکا دونوں عراق کی نسلی اور فرقہ وارانہ بنیادوں پر تقسیم کی مزاحمت کی بات کر چکے ہیں۔ البتہ امریکا کے موجودہ نائب صدر جوبائیڈن نے بطور سینیٹر 2006 میں عراق کی تقسییم کی حمات کی تھی۔

کرد رہنما کے مطابق عراق کی تقسیم کے لیے ثقافتی حوالے سے بہت بڑی تبدیلی کی ضرورت ہو گی تاہم وہ نہیں سمجھتے کہ یہ تبدیلی کب تک آئے گی۔

البتہ یہ بات اپنی جگہ ہے کہ امریکی حملے اور 2011 میں امریکی افواج کے انخلاء کے بعد سے اس تقسیم کے نظریے کی حمایت پائی جاتی ہے اور اب فوجی اور سفارتی ماہرین کی سطح پر بھی اس تصور کی حمایت ہونے لگی ہے۔

کرد وں کے نائب وزیر اعظم نے مزید کہا ''عراق کو متحد رکھنے کا ایک ہی طریقہ ہے کہ مرکزی حکومت کردوں کو بااختیار کرے، اس حوالے سے وہ سنی کردوں کی علاقائی حکومت کے امکانات کو دیکھ رہے ہیں۔ ''

طالبانی نے کہا عراق کی مرکزی حکومت نے ثابت کیا ہے کہ وہ صوبوں اور علاقائی شناختوں کو اختیارات منتقل کرنے میں ناکام رہی ہے۔ نتیجتاً بغداد تمام وسائل پر قابض ہے اور ملک کا بڑا حصہ بھوک زدہ ہے۔

واضح رہے عراقی آبادی کا ساٹھ فیصد حصہ شیعہ آبادی پر مشتمل ہے۔ اس ناطے نوری الماکی کی حکومت کے دوران سنیوں میں سخت ردعمل پیدا ہوا ہے۔ کردوں کو عراق میں مطالبات پورے ہونے کی صورت میں آس پاس کے کردوں کے لیے حوصلہ افزائی کا امکان بڑھ جائے گا۔